Category: جنوبی ایشیا

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ نیو سٹی میرپور میں اضافی کنبہ جات کا مسئلہ بھی حل کیا جا چکا ہے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔

پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی کا افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ؛ طالبان کے نسلی اجارہ داری پر مبنی ڈھانچے اور غیر پشتون آبادی کو اقتدار سے باہر رکھنے پر عالمی تشویش میں اضافہ۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔

پاکستان اور افغان طالبان کے وفود چین روانہ ہو گئے ہیں جہاں بیجنگ کی ثالثی میں جنگ بندی، سرحدی تنازعات اور سکیورٹی معاملات پر اہم مذاکرات ہوں گے

جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔

طورخم بارڈر کو جلد کھولنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف تجارت بلکہ افغان شہریوں اور وطن واپسی کے منتظر افراد کی آمدورفت بھی بحال ہو سکے گی۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث افغانستان جیسے کمزور انفراسٹرکچر رکھنے والے ممالک میں قدرتی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کی کارروائیاں مخصوص معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور فائرنگ پوزیشنز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو

اس ملاقات کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ علاقے میں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے، جسے پاکستان کے کنٹرول میں شامل کیے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران جنرل عاصم منیر کو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر اور متوازن قائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران امریکہ تناؤ، اور جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔