جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے "آپریشن ایپک فیوری" کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔
بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا
چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔
حکام نے بلوچستان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ماہی گیری، لائیو سٹاک، حلال گوشت، پھل، معدنیات اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کو نمایاں کیا اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے لیے کلیدی گیٹ وے قرار دیا۔
انہوں نے اہم ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کارڈیالوجی سینٹر کا بجٹ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ کیتھ لیب کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور میں ایمرجنسی خدمات کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی، جس کی ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھرپور تائید کی۔ یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کے لیے ایشیائی ممالک کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ؛ عید کی مبارکباد، سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت اور ہر مشکل گھڑی میں مملکت کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ
آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔
امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے
سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام تنازعات کا حل نکالنا ہے۔ امریکی ذریعے کے مطابق ثالثی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔”
پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی یہ قربت خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے جا رہی ہے اور اس تبدیلی میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں