خیبر پختونخوا میں فتنۃ الخوارج کے بزدلانہ ڈرون حملوں اور بھارتی مداخلت کے خلاف پاک فوج کا آپریشن غضب لِلحق کامیابی سے جاری ہے، جس میں اب تک دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے پاکستانیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم پر سوشل میڈیا صارفین نے دبئی پولیس سے سخت کاروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔
طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں 'نیشن اسٹیٹ' کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ کے باعث خلیجی خطے کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود میں خلل پیدا ہوا، جس سے پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے اور متعدد روٹس تبدیل کرنا پڑے
ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور بحرِ ہند میں امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنی جنگی طاقت کا لوہا منوا لیا، جبکہ اسرائیل پر بھی میزائل حملوں میں بھاری نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے
دفاعی ماہرین نے اقوامِ متحدہ (او سی ایچ اے) کی رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملوں کو 'شہری نقصان' بتا کر حقائق مسخ کر رہا ہے
کچھ تجزیہ کار اس بیانیے کو وسیع تر نظریاتی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، جہاں ہندوتوا اور صہیونیت سے منسلک بیانیے عالمی سطح پر مخصوص اسلامی ممالک کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں حملے کے بعد دوسری بار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جو عام طور پر اسلحہ یا بارودی مواد کے ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پہلو اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اصل ہدف عسکری نوعیت کا تھا، نہ کہ کوئی شہری یا طبی مرکز۔