Category: وسطی ایشیا

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے طالبان کو بھاری نقصان پہنچانے کی خبر دی ہے، جبکہ ملک میں طالبان مخالف مزاحمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور اتحادی فورسز نے طالبان کی حمایت کرنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کا حکم دے دیا، عدم تعمیل پر عسکری کارروائی کا انتباہ۔

کابل میں طالبان انٹیلی جنس کے سینئر عہدیدار عبداللہ غزنوی کو قتل کر دیا گیا، جس کی ذمہ داری افغان مزاحمتی گروپ نے قبول کر لی ہے۔

پنجشیر اور بدخشاں کے بعد فاریاب میں بھی جبہۂ رہائے بخش کے قیام سے طالبان مخالف مزاحمت میں شدت آ گئی۔

اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز میسر ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

امریکی رپورٹ کے مطابق بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا نیا مرکز بن رہا ہے، جہاں جولائی کے دوران ایک ضلعی ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ بھی کیا گیا۔

سابق افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت طالبان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ قائم کر کے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

بدخشاں میں ذبیح اللہ امیری کی ہلاکت کے بعد طالبان کے آرمی چیف جنرل فصیح الدین فطرت کے گھر پر حملہ ہوا ہے، جو خطے میں بڑھتی مزاحمت کا اشارہ ہے۔

طالبان کے پرپیگنڈا پلیٹ فارم المرصاد کی جانب سے پاکستان پر الزامات دراصل افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش کی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مشن یوناما نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے 33 جماعت خانے بند کر کے مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ شیعہ برادری کی مذہبی سرگرمیوں پر بھی قدغن، 45 افراد حراست میں۔