Category: سفارتکاری

ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کے نئے آڈیو پیغام میں پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا تنازع افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہے۔

ازبک صحافیوں نے پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے اہم تجارتی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات، فضائی روابط اور معاشی تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے۔

پاکستان نے افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار دراندازی میں مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا

یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کیا تھا، جس کے بعد بھارت کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاریخی طور پر بھارت اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں، لیکن 2021 میں امریکا کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد نئی دہلی نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

دورانِ ملاقات خطے کی امن و سلامتی بالخصوص دہشت گردی جیسے مسائل پر تفصیلاً گفتگو کی گئی

عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور جموں کشمیر کے تنازعات کے حل کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچ گئے۔ ملائیشیا پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا شاندار استقبال کیا گیا

وزیرِاعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے، جس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور سینیئر حکام شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کے لیے مل کر مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔

صدر ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل ہی اس تنازعے کا مستقل اور منصفانہ حل ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہ صرف عوام کو قریب لائے گی بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔