Category: سفارتکاری

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بڑا، جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم قرار دیا۔

حکومتِ پاکستان کی سہولت اجازت سے 724 ٹرکوں پر مشتمل انسانی امداد طورخم بارڈر کے راستے افغانستان پہنچ گئی۔ اقوامِ متحدہ نے امدادی راستہ کھلا رکھنے پر پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

چینی سفیر جیانگ زی ڈونگ کی وزارتِ خارجہ میں اسحاق ڈار سے ملاقات، براڈ پیک برفانی تودے کے حادثے پر تعزیت اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر اہم سفارتی موقع ہے۔

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

ایرانی صدر پزشکیان کی محسن نقوی سے ملاقات، پاکستان ایران تعلقات کو علاقائی سکیورٹی کے لیے اہم قرار دیدیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی کے خلاف نہیں۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے اور مستقبل میں مصر بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم اور مملکتِ بحرین نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مسلم دنیا کے امن و استحکام کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔