اس اہم فیصلے کے پیچھے قطر کی جانب سے ملنے والے مثبت اشارے بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی اسپاٹ مارکیٹ کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہوگی۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس ایک سال کے عرصے میں مرکزی بینک کے اپنے ذخائر میں 5 ارب 55 کروڑ 29 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا، جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 95 کروڑ 67 لاکھ ڈالرز کا اضافہ دیکھا گیا۔
مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 1.48 فیصد اضافہ ہوا، جو 15.07 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 14.85 ارب ڈالر تھیں۔
عالمی منڈی میں تیل 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے باوجود حکومت نے 129 ارب روپے کی سبسڈی برقرار رکھتے ہوئے ٹارگٹڈ ریلیف پروگرام میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔
رقم کا دوسرا حصہ، 60 ملین یورو، کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس فنڈنگ سے شہر میں دو بڑے فلٹریشن پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 30 کروڑ لیٹر صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پہلے ہائی لیول پاک-یورپی یونین بزنس فورم کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد تجارت کو طویل مدتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔