افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے 5 سال بعد پہلی بار مخالف جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا، اسلحہ و گاڑیاں قبضے میں لے کر فرار ہو گئے۔
ایران کے ہرمزگان میں امریکی حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق۔ ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ، ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کا دعویٰ۔
امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
پہیہ جام ہڑتال نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کو ٹرانسپورٹ پالیسی کے حوالے سے مستقل، دیرپا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر اس بار بھی دونوں فریق انا کے محاذ سے پیچھے نہ ہٹے تو نقصان صرف عوام کا ہوگا اور ایک بار پھر ریاستی کمزوری اور انتظامی بدنظمی پوری شدت سے سامنے آئے گی۔
طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔
ایکس کے فیچر کے ذریعے انکشاف ہوا کہ متعدد وہ اکاؤنٹس جو بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہے تھے، دراصل بھارت میں موجود افراد آپریٹ کر رہے تھے۔
بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کی سرخ لکیریں، اور افغانستان کا متبادل راستوں کی تلاش کرنا؛ یہ سب خطے کے اس نازک لمحے کو تشکیل دے رہے ہیں جس پر جغرافیہ اور عسکری اقدمات کے اثرات گہرے ہیں۔
دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔