Category: اداریہ

پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ 'تیمور' ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

سعودی عرب میں بھارتی این ایس اے اجیت ڈوول کا تذلیل آمیز استقبال؛ اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔

اسلام آباد میں بارودی مواد کی برآمدگی اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق افغان پراپیگنڈا اکاؤنٹ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں فوری انتخابات اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اہم دور کل اسلام آباد میں شروع ہوگا؛ معاہدے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ حماس نے اپنی انتظامی ذمہ داری ایک غیر جانبدار فلسطینی تکنوکریٹ حکومت کے سپرد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس وقت بھارت کے پاس اگنی-5 میزائل موجود ہے جس کی رینج 7,000 سے 8,000 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ بھارت اگنی-6 تیار کر رہا ہے، جس کی رینج 9,000 سے 16,000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔

پاکستان کے معدنی وسائل قومی اثاثے ہیں، کسی کی سیاست چمکانے کا ہتھیار نہیں۔ گمراہ کن مہمات نہ جغرافیہ بدل سکتی ہیں نہ ریاستی پالیسی۔

افغانستان کا مستقبل صرف اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب وہ خطے کے ہمسایہ ممالک کے خدشات کو سنجیدگی سے لے اور عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرے۔ ورنہ کابل کے دعوے محض الفاظ رہیں گے۔

اس لہر کی مخالفت بھی کمزور نہیں۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف براہِ راست مذاکرات کے ذریعے قائم ہو سکتی ہے۔

یہ معاہدہ جارحانہ عزائم پر مبنی نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد مشترکہ خطرات کے مقابلے پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

اس نئی گریٹ گیم میں جنگی اڈے، میزائل نظام اور دفاعی معاہدے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، اور افغانستان اب بھی اس گیم کا مرکزی میدان ہے

پاکستان کی سکیورٹی فورسز بہادری سے لڑ رہی ہیں لیکن اس قومی جنگ کو مضبوط بنانے کے لئے وفاق اور صوبوں کا مکمل تعاون ناگزیر ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مطالبات کا شکار نہ ہو اور اپنی سلامتی کی پالیسی کو واضح اور دیرپا رکھے۔

یہ بیانیہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی تحفظ کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کی شدت پسندی کے خلاف عزم پر سوال اٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوتا ہے۔