Category: اداریہ

چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات؛ چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کر دی۔

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا پہلا پاک یورپی تجارتی اشتراک ملک کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جس سے دوطرفہ تجارت اور طویل المدتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ 'تیمور' ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

سعودی عرب میں بھارتی این ایس اے اجیت ڈوول کا تذلیل آمیز استقبال؛ اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی۔

اسلام آباد میں بارودی مواد کی برآمدگی اور ٹریفک پابندیوں سے متعلق افغان پراپیگنڈا اکاؤنٹ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔

پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ بی ایل اے کی نامزدگی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تعاون حاصل کرے۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ داخلی سطح پر متحد پالیسی اپنائی جائے اور عالمی برادری کو باور کرایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

قطر پر حملے نے عالمی برادری کو چونکا دیا ہے۔ یہ محض ایک خودمختار ریاست پر حملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر افغان حکومت یکطرفہ بیانیہ جاری رکھتی ہے اور پاکستان کے تحفظات کو نظرانداز کرتی ہے تو دونوں ملکوں کے تعلقات دوبارہ تناؤ کا شکار ہوں گے۔

یہ تباہی کا سلسلہ جاری رہے گا جب تک ہم ہنگامی اقدامات کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں اپناتے

"پنجاب ہمارا حصہ کھا رہا ہے" کا نعرہ حقیقت کے سامنے دم توڑ دیتا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ صوبے کے مالیاتی وسائل کا اختیار صوبائی حکومت اور بالآخر سرداروں کے پاس ہے۔

پاکستان نے دہائیوں تک ان کے لیے دروازے کھلے رکھے، لیکن عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے وعدے نبھائے

پاکستان کی قربانیاں ایک ایسے بگڑے ہوئے عالمی نظام کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں دہشتگردی کو سیاسی بنایا جاتا ہے، اسلاموفوبیا کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور قبضوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔

یہ وقت بھی معنی خیز تھا کیونکہ ان بیانات سے قبل امریکہ کے سابق ایلچی زلمے خلیلزاد نے سوشل میڈیا پر یہ الزام لگایا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس کانفرنس کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں

صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایران پاکستان تعلقات میں ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشی ترقی اور مشترکہ سیکیورٹی جیسے مفادات تاریخی کشیدگی اور جیوپولیٹیکل چیلنجز پر غالب آ رہے ہیں تو یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔