Category: اداریہ

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات اپنے تعلقات کو محض رسمی دوستی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے ایک جامع، طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔

یہ دن محض خراجِ عقیدت پیش کرنے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی دن ہے۔ قائداعظمؒ کا پاکستان اب بھی ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔ ضرورت صرف اس عزم کی ہے جو انہوں نے کیا تھا، اور اس وفاداری کی جو ہم ان کے نظریے کے ساتھ نبھا سکیں۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ تحسین ہوگا۔

پی آئی اے گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے، ناقص انتظامی ڈھانچے، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی علامت بنی رہی۔ اربوں روپے کے سالانہ نقصانات نے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا، جبکہ مسافروں کو ناقص سروس، فرسودہ فضائی بیڑے اور عالمی معیار سے کم سہولیات کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیا پر قدغنیں، صحافیوں کے خلاف مقدمات اور اظہارِ رائے کو محدود کرنے والے اقدامات بھی تشویش ناک ہیں۔ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا ہی ریاست کو جواب دہ بناتا ہے، مگر جب صحافت کو جرم کے مترادف بنا دیا جائے تو معاشرہ اندھیروں کی طرف بڑھتا ہے۔

تاثر اور حقیقت کے درمیان یہ فرق سب سے زیادہ عام شہری کے تجربے میں نمایاں ہوتا ہے۔ نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی سرکاری کام کے لیے رشوت ادا نہیں کی۔ یہ اعداد و شمار اس عمومی تصور کی نفی کرتے ہیں کہ ریاستی معاملات رشوت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ دوہرے معیار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ریاست یا اس کے شہری بیرونِ ملک تشدد، تخریب کاری یا عدم استحکام میں ملوث پائے جائیں تو شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہونی چاہئیں۔ مگر جب شواہد کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے، تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔

سڈنی واقعہ واضح کرتا ہے کہ انتہا پسندی کی جڑیں صرف سیکیورٹی ناکامی میں نہیں بلکہ نفرت انگیز بیانیے، ذہنی شدت پسندی اور منفی پروپیگنڈے میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب یا قوم سے نہیں بلکہ اس کی بنیاد انسانی نفرت، شدت پسندی اور سیاسی مقاصد کی تکمیل پر ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں نے واضح کر دیا کہ ان کا سب سے بڑا خوف تعلیم یافتہ نسل ہے، وہ نسل جو دلیل، شعور اور ترقی کی طاقت کو پہچانتی ہو۔ 2007 سے 2014 تک طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنا، اساتذہ پر حملے، اور بالآخر سانحۂ اے پی ایس جیسے واقعات اسی ذہنیت کا تسلسل تھے۔

گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکام متعدد بار پاکستان اور عالمی برادری کو اسی قسم کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، مگر ٹی ٹی پی اور دیگر متعلقہ گروہوں کی سرگرمیاں، حملے اور موجودگی نے ان وعدوں کو غیرموثر بنا دیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس تازہ فتویٰ کی اہمیت کو پرکھا جائے گا۔

انسانی حقوق اور قومی سکیورٹی کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ پائیدار سکیورٹی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کا اعتماد رکھے، اور شہری ریاست پر بھروسہ قائم کریں۔ یہی توازن پاکستان کے لیے عالمی برادری میں اپنی بات منوانے کے لیے ضروری ہے۔