افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے 5 سال بعد پہلی بار مخالف جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا، اسلحہ و گاڑیاں قبضے میں لے کر فرار ہو گئے۔
ایران کے ہرمزگان میں امریکی حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق۔ ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ، ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کا دعویٰ۔
امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
افغانستان کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہونے کا مطلب ہے کہ افغانستان کی تجارت بڑی حد تک اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہوگی اور تاجروں کو معاشی قتل عام ہوگا۔
صرف 2025 میں اب تک تقریباً 4300 سے زائد حملے کیے گئے جن میں 1000 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ان میں زیادہ تر حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ تاہم اب اسلام آباد جیسے محفوظ شہر میں دھماکے نے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
اس تمام عرصے میں پاکستان نے فلسطینیوں کو تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے نہ تو اس انسانی اور اسلامی جذبے کی کھلے عام تعریف کی اور نہ ہی اس طرزِ عمل کو اپنایا۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ اقتصادی باہمی انحصار اب امن کی ضمانت نہیں رہا۔ یہ ایک نئے دور کی نشاندہی ہے جہاں تجارت، ٹیکنالوجی اور ڈیٹا طاقت کے ہتھیار بن چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فی کس فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔
ریاست مخالف سوچ کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا دراصل خود ریاست کی کمزوری ہے۔ بلوچستان کے امن اور پاکستان کے استحکام کے لیے قانونی اور فکری دونوں محاذوں پر ایک مضبوط جواب ناگزیر ہے۔
برسوں سے پھیلائے گئے افغانستان کے "ناقابلِ شکست" ہونے کے تاثر کو اب زمینی حقائق نے بے نقاب کر دیا ہے۔ طاقت کے توازن کا محور اب محض نعروں میں نہیں بلکہ عملی فیصلوں میں منتقل ہو چکا ہے۔