"> اداریہ Archives - Page 2 of 20 - HTN Urdu

Category: اداریہ

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں معدنی معاہدوں کی بدعنوانی اور طالبان دھڑوں کی کشمکش نے بدخشاں اور تخار میں بدامنی بڑھا دی ہے۔

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شمالی وزیرستان میں قندھار کے حافظ محب اللہ سمیت افغان دہشت گردوں کی ہلاکت نے کابل انتظامیہ اور امیر خان متقی کے تمام دعوؤں کی حقیقت کھول دی۔

مزار شریف، بدخشاں اور زابل سمیت کابل اور قندھار تک سکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام پر حملوں کا دائرہ طالبان کے دعووں کے برعکس گہرے داخلی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

کٹھوعہ فائرنگ اور خودکشیوں کے اعداد بھارتی فورسز میں ذہنی دباؤ، باہمی تنازعات اور اندرونی نظم و ضبط سے متعلق اہم سوالات سامنے لاتے ہیں۔

خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی 13 سالہ تاخیر اور ایک نابینا پر نقل کا پرچہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ بصیرت سے محروم بدعنوان انتظامی نظام کا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کے جغرافیائی پھیلاؤ اور قندھار سمیت اہم مراکز میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے سے طالبان رجیم کا حفاظتی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کے بعد خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال بگڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے امن کے بجائے اسلام آباد مارچ کو ترجیح دینے پر صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

نائن الیون کے پچیس سال بعد عالمی دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور افغان پناہ گاہوں کے باعث خطے کے لیے بدستور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

خوارج کی اصل جنگ ریاستی نظام سے نہیں بلکہ اس معتبر دینی فہم کے خلاف ہے جو خودکش حملوں اور تکفیر کو مسترد کرتا ہے، جس کی پاداش میں مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور شیخ ادریس ترنگزئی سمیت متعدد جید اکابرین کو شہید کیا گیا۔