روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
مزار شریف، بدخشاں اور زابل سمیت کابل اور قندھار تک سکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام پر حملوں کا دائرہ طالبان کے دعووں کے برعکس گہرے داخلی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔
خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی 13 سالہ تاخیر اور ایک نابینا پر نقل کا پرچہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ بصیرت سے محروم بدعنوان انتظامی نظام کا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کے جغرافیائی پھیلاؤ اور قندھار سمیت اہم مراکز میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے سے طالبان رجیم کا حفاظتی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کے بعد خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال بگڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے امن کے بجائے اسلام آباد مارچ کو ترجیح دینے پر صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
خوارج کی اصل جنگ ریاستی نظام سے نہیں بلکہ اس معتبر دینی فہم کے خلاف ہے جو خودکش حملوں اور تکفیر کو مسترد کرتا ہے، جس کی پاداش میں مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور شیخ ادریس ترنگزئی سمیت متعدد جید اکابرین کو شہید کیا گیا۔