Category: اداریہ

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

نور ولی محسود کا قرآنی آیات کو مسخ کر کے فورسز پر حملوں کی ترغیب دینا دینی اقدار اور علمی اصولوں کے منافی ہے۔ مسلمان ریاست اور فورسز کے خلاف مسلح بغاوت جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔

پاکستان کے فرسودہ انتظامی نظام میں اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور جدید تقاضوں کے مطابق متوازن ترقی کا احاطہ۔

افغان مہاجرین کی پناہ گاہوں پر سوال اٹھانا احسان فراموشی ہے، جبکہ افغان سرزمین کا پڑوسیوں کے خلاف استعمال مسلمہ حقیقت ہے۔

پکتیا میں طالبان کے نائب وزیرِ دفاع کے قافلے پر حملے اور اس میں ٹی ٹی پئ رہنما کی موجودگی نے پاکستان کے تحفظات درست ثابت کر دیے ہیں، جبکہ ابھرتی مزاحمت سے طالبان کی حکومتی رٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بھارت اندرونی طور پر نوجوانوں کی بے چینی اور بیرونی طور پر اپنے شہریوں کے عالمی جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق اب واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔

بدخشاں اور نیمروز میں تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت، عالمِ دین کا شدید مذہبی فتویٰ اور افغان بچوں کا عسکری استعمال؛ طالبان حکومت شدید داخلی اور بقائی بحران کی زد میں۔

افغانستان میں طالبان مخالف حملے منظم مزاحمت میں بدل چکے ہیں، جہاں بڑھتا عوامی غصہ کابل کی عملداری کو چیلنج کر رہا ہے۔

بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

بھارت میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلٹ گنز کا استعمال اور ریاستی تشدد امتحانی نظام کی تباہی اور جمہوریت کے نام پر جبر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی اور خلیجی بحران کے حل کے لیے پاکستان کا متوازن سفارتی کردار انتہائی اہم ہے۔ عارضی انتظامات کے بجائے مستقل سیاسی حل ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔