Category: اداریہ

ضلع کرم کے علاقے تھادو اوبو میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور حملے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

تجزیہ کار امیر جہانگیر کے مطابق بھارت افغان روابط اور عسکریت پسندی بلوچستان کے معدنی وسائل تک امریکی رسائی اور پاکستان کی جیو اکنامک ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

اسلام آباد میں آٹھویں پاک یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد؛ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ صدارت کی اور دوطرفہ شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت؛ عدالتی کارروائی کے التوا پر قانونی و عوامی بحث اور پراسیکیوشن کا تاخیر کے الزامات سے انکار۔

معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم الماشی کا انکشاف؛ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے مسلح حملوں میں خواتین کا استعمال تنظیم کی شدید مایوسی اور آپریشنل کمزوری کی علامت ہے۔

سفارتی ذرائع نے کابل میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متوقع مذاکرات کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

آئیے آج اپنے رویوں کی اصلاح کا عہد کریں اور یہ تسلیم کریں کہ ہماری پوری زندگی ماں کے ایک آنسو کا بدل بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ عہد کریں کہ اپنی ماؤں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیں گے اور انہیں وہ مقامِ بلند دیں گے جس کا حکم ہمیں ہمارے دین اور اقدار نے دیا ہے۔

چارسدہ میں عوامی بیداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت جید علمائے کرام کے دوٹوک مؤقف نے فتنہ الخوارج کے نظریاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ اداریہ اس ابھرتی ہوئی مزاحمت اور فکری جنگ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں 'نیشن اسٹیٹ' کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

فروری 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے، تقریباً چھ ہزار جنگجو مختلف افغان صوبوں میں سرگرم ہیں، اور انہیں پناہ، سہولت اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں چھ سو سے زائد حملوں کا سراغ افغان علاقوں تک جاتا ہے۔ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر اس کا معاشی بوجھ افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ 'آپریشن غضب للحق' کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

پہلگام سانحے کے ایک برس بعد حسن اسلم شاد کا تجزیہ بھارتی بیانیے کے تضادات اور بین الاقوامی قانون سے انحراف کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیا ایٹمی خطے میں مفروضے قانون کی جگہ لے سکتے ہیں؟

خلیجی ڈپازٹس اب صرف مالی سہارا نہیں رہے، بلکہ “سیاسی ریفرنڈم” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یعنی اب کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر خلیجی ریاستوں کی رائے کا اظہار براہِ راست مالی فیصلوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

آج کی گورننس کا حال بھی ماضی سے مختلف نہیں۔ 2021 سے اب تک معیشت 30 فیصد سکڑ چکی ہے، لاکھوں ملازمتیں ختم ہو گئیں اور 75 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ 25 لاکھ بچیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔

یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ فعال ’المرصاد‘ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور سفارتی کششوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔