اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔
اس حادثے میں 8 مزدور جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ابتدائی مرحلے میں 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ بعد ازاں مسلسل تلاش اور کھدائی کے عمل کے دوران عبدالوہاب نامی مزدور کو 17 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے امریکا ایران مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران اور پاکستان کا عزم مشترک اور مضبوط ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف فورم کے دوران "لیڈرز پینل" میں شرکت کر کے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول میں شامل ہیں۔
ترجمان نے افغانستان سے متعلق واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے تحریری اور قابل تصدیق یقین دہانیاں چاہتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ایک غیر رسمی مگر مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آنا خطے کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسلام آباد کی "خاموش سفارت کاری" نہ صرف دہائیوں پر محیط سفارتی تجربے کا تسلسل ہے بلکہ یہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے
یہ پہلا موقع نہیں کہ پی ٹی آئی پر داخلی معاملات کو عالمی سطح پر لے جانے کا الزام لگایا گیا ہو۔ ماضی میں آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ساتھ خط و کتابت اور سیاسی تنازعات کو بین الاقوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوششوں نے بھی یہی تاثر پیدا کیا کہ ملکی سیاست کو بیرونی دباؤ کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یومِ پاکستان 2026 کے موقع پر ایچ ٹی این کا خصوصی اداریہ؛ قراردادِ لاہور کی تاریخی اہمیت، دفاعی کامیابیوں اور معاشی خود انحصاری کی ضرورت پر تفصیلی جائزہ
پاکستان میں جب بھی کسی بڑے ادارے میں احتساب یا اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اکثر اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے اصل حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں
چودہ سو برس پہلے شیرِ خدا علیؓ نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ کردار اور یقین سے پیدا ہوتی ہے، مسلم دنیا اگر اپنے اندر اتحاد، خود اعتمادی اور اصولوں پر استقامت پیدا کرے تو عالمی سیاست میں اس کی آوازیقینا زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
مجتبی خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا خطے کے لئے مفید ہے یا مضر یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا، طاقت کے کھیل میں فوری نتائج کم ہی نکلتے ہیں اور اکثر فیصلے وقت کی کسوٹی پر ہی اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہیں