روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
کنڑ میں بھارتی یوٹیوبر کے دورے اور ٹی ٹی پی انٹیلی جنس سے رابطے نے افغان طالبان کی سرپرستی اور پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا، جس سے اسلام آباد کا دیرینہ مؤقف حرف بحرف سچ ثابت ہو گیا ہے۔
طالبان اقتدار کے 5 سال مکمل ہونے پر بھی افغانستان معاشی بحران، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی تنہائی کا شکار ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل سوالیہ نشان ہے۔
فتنہ الخوارج نے 2007 سے اب تک ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور علما کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی قانون کے تحت کالعدم اس تنظیم کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز آئینی اختیار کے تحت کیے گئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔
نور ولی محسود کا قرآنی آیات کو مسخ کر کے فورسز پر حملوں کی ترغیب دینا دینی اقدار اور علمی اصولوں کے منافی ہے۔ مسلمان ریاست اور فورسز کے خلاف مسلح بغاوت جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔
پکتیا میں طالبان کے نائب وزیرِ دفاع کے قافلے پر حملے اور اس میں ٹی ٹی پئ رہنما کی موجودگی نے پاکستان کے تحفظات درست ثابت کر دیے ہیں، جبکہ ابھرتی مزاحمت سے طالبان کی حکومتی رٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارت اندرونی طور پر نوجوانوں کی بے چینی اور بیرونی طور پر اپنے شہریوں کے عالمی جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق اب واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔