کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب اقدامات کے بعد ٹی ٹی پی، افغان اور بھارتی اکاؤنٹس پرانی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ ہے کہ ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے انٹیلی جنس، فوجی تربیت، میزائل اور ڈرونز فراہم کر رہا ہے، جبکہ تہران نے الزامات مسترد کردیے۔
سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا مسترد؛ اے پی ایس سانحے کے سہولت کار کا پاکستانی ایٹمی پروگرام پر بیان اسرائیلی ایجنڈے کا حصہ قرار
ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں
افغان وزارتِ دفاع نے پاکستان کے اہم عسکری مراکز پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈا ثابت کر دیا ہے
اسی طرح ایک تصویر جسے بعض افغان میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی طیارے کا ملبہ قرار دیا، درحقیقت 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی فائر فائٹنگ طیارے کے حادثے کی ہے۔ اس حادثے میں روسی ساختہ بی ای-200 طیارہ جنوبی ترکی میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا بشمول سی این این نے شائع کی تھیں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا
بلوچستان میں "لاپتہ افراد" کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں "لاپتہ" قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے
بی ایل اے کا "لاپتہ افراد" سے متعلق بیانیہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گیا جب ہمدان علی عدالت میں پیش ہوئے؛ دہشت گرد تنظیم نے اپنے نیٹ ورک کے راز فاش ہونے کے خوف سے اپنے ہی کارندے کو "خاموش" کروا دیا