اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں؛ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی، شیڈول تاحال غیر واضح۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا
بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔
آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد نئی دہلی اور تہران کے مابین سفارتی کشیدگی؛ بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا، تجارتی جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ۔
میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں شدید تعطل؛ صدر ٹرمپ کے 'معاہدہ قریب ہے' کے دعوؤں کو تہران نے مسترد کر دیا، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر فریقین کے مؤقف میں تضاد برقرار۔
مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو دراصل ایک بڑے بیانیے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو دہشتگرد ثابت کیا جا رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی کریک ڈاؤن کو جواز مل سکے۔
یہ تنازعہ نہ صرف روس اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے بلکہ خطے میں میڈیا کی آزادی اور غیر جانب دار رپورٹنگ کے چیلنجز کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔
"چند کی اسٹروکس کے ساتھ، انٹرنیٹ ہم خیال لوگوں کو طویل فاصلے پر جوڑ سکتا ہے اور زبان کی رکاوٹوں کو بھی عبور کر سکتا ہے۔ چاہے مقصد خطرناک ہو (جیسے دہشت گرد گروپ کی حمایت)، معمولی ہو (کسی سیاسی جماعت کی حمایت)، یا فضول ہو (جیسے یہ عقیدہ کہ زمین چپٹی ہے)، سوشل میڈیا اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ آپ کو ایسے لوگ ضرور ملیں گے جو آپ کی رائے سے اتفاق رکھتے ہوں۔"