ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ یورپ سنجیدہ فکری جوابات سے گریز، سیلفیز اور غیر سنجیدہ اندازِ گفتگو کی وجہ سے شدید تنقید کا شکار ہو گیا ہے، جس نے بھارتی جمہوریت کے دعوؤں کو مزید سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد چکن نیک کے اہم ترین تزویراتی علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے کر دی گئی، جس کا بنیادی فائدہ مبینہ طور پر اڈانی گروپ کو پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔
اگنی میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق پوچھے گئے ہر سوال پر ان کا روایتی فلسفیانہ اور مبہم جواب سامنے آیا۔ میزائل کی رینج، اس کی درجہ بندی اور آپریشنل پیرامیٹرز کے بارے میں ٹھوس سائنسی حقائق بتانے کے بجائے وہ مسلسل اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دے کر چھپاتی رہیں، جو کہ پروگرام کی اندرونی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
کسی بھی "جغرافیائی تباہی" کا نتیجہ یکطرفہ نہیں بلکہ "مکمل اور دوطرفہ" ہوگا، جو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے سنگین خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بھارت کے اس قسم کے جنگی حربوں اور جارحانہ بیانیے نے جنوبی ایشیا کو بارہا بحرانوں اور عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔