Category: انڈیا

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سعودی اتحاد کے مطابق مکہ ریجن میں ایک ڈرون کی نشاندہی کے بعد اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ یورپ سنجیدہ فکری جوابات سے گریز، سیلفیز اور غیر سنجیدہ اندازِ گفتگو کی وجہ سے شدید تنقید کا شکار ہو گیا ہے، جس نے بھارتی جمہوریت کے دعوؤں کو مزید سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔

بنگلہ دیش نے اپنے اعلیٰ سول افسران کی تربیت کا پروگرام بھارت سے پاکستان منتقل کر دیا ہے، جس کے تحت 12 بیوروکریٹس لاہور میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

صحافی نے انکشاف کیا کہ وہ پورا دن اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے جدوجہد کرتی رہیں، جس کے بعد انہیں پلیٹ فارم کی جانب سے معطلی کا نوٹس موصول ہوا۔

مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد چکن نیک کے اہم ترین تزویراتی علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے کر دی گئی، جس کا بنیادی فائدہ مبینہ طور پر اڈانی گروپ کو پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں ملنے والی مار کو ابھی تک سہلا رہا ہے اور فروری 2019 کا سرپرائز ابھی تک نئی دہلی کو یاد ہونا چاہیے۔

اگنی میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق پوچھے گئے ہر سوال پر ان کا روایتی فلسفیانہ اور مبہم جواب سامنے آیا۔ میزائل کی رینج، اس کی درجہ بندی اور آپریشنل پیرامیٹرز کے بارے میں ٹھوس سائنسی حقائق بتانے کے بجائے وہ مسلسل اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دے کر چھپاتی رہیں، جو کہ پروگرام کی اندرونی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

کسی بھی "جغرافیائی تباہی" کا نتیجہ یکطرفہ نہیں بلکہ "مکمل اور دوطرفہ" ہوگا، جو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے سنگین خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بھارت کے اس قسم کے جنگی حربوں اور جارحانہ بیانیے نے جنوبی ایشیا کو بارہا بحرانوں اور عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔

بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر ددویدی کے پاکستان مخالف بیان پر پاکستانی حلقوں نے ماضی کی فضائی شکستوں کا حوالہ دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔