آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے 12 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تیس مئی کے مذاکرات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے امتحان ہیں کہ وہ ہڑتالوں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے نعروں سے پاک عملی نتائج اور عوامی ریلیف کو ترجیح دے۔
بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور گودی میڈیا کی جانب سے آزاد کشمیر میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے ایک بے گناہ مہاجر معلم حمزہ کی ٹارگٹ کلنگ کا بے شرمی سے کریڈٹ لینے اور حقائق کو مسخ کرنے کی منظم مہم کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر سرگرم بعض نام نہاد تحریکوں اور جعلی انقلابیوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، جو بیرونی فنڈنگ اور غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔
حکومتِ آزاد کشمیر کے ریلیف پیکیج اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون ہڑتال کال اور 12 مہاجر نشستوں کے خلاف مہم نے ان کے مقاصد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے دل کے قریب رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین معاشی مشکلات اور وفاقی سطح پر سخت بجٹ کے باوجود حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے یہاں کے عوام کو آٹا، بجلی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی اور اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔