Category: کشمیر

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے 12 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تیس مئی کے مذاکرات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے امتحان ہیں کہ وہ ہڑتالوں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے نعروں سے پاک عملی نتائج اور عوامی ریلیف کو ترجیح دے۔

آزاد کشمیر کے علاقے حویلی کہوٹہ میں سیاحوں کا لوڈر رکشہ گہری کھائی میں گرنے سے ڈرائیور سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔

بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور گودی میڈیا کی جانب سے آزاد کشمیر میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے ایک بے گناہ مہاجر معلم حمزہ کی ٹارگٹ کلنگ کا بے شرمی سے کریڈٹ لینے اور حقائق کو مسخ کرنے کی منظم مہم کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر سرگرم بعض نام نہاد تحریکوں اور جعلی انقلابیوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، جو بیرونی فنڈنگ اور غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔

حکومتِ آزاد کشمیر کے ریلیف پیکیج اور ترقیاتی اقدامات کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون ہڑتال کال اور 12 مہاجر نشستوں کے خلاف مہم نے ان کے مقاصد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

عوام کی سہولت کے لیے بجلی کے بقایاجات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے، منگلا ڈیم سے متعلق بجلی کے بقایاجات معاف کر دیے گئے ہیں۔

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔

مہاجر نشستوں کو متنازع بنانا دراصل پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مشترکہ اور دیرینہ مؤقفِ استصوابِ رائے پر وار کرنے کے مترادف ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے دل کے قریب رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین معاشی مشکلات اور وفاقی سطح پر سخت بجٹ کے باوجود حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے یہاں کے عوام کو آٹا، بجلی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی اور اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔