خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اڈیالہ جیل سے ملنے والی سیاسی ہدایات اور احتجاجی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے صوبے میں گورننس شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی، اغوا اور بدامنی کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ احتجاج پرامن نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے اہم کارندے عمر دین عرف جذبہ نے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کو افغانستان سے فنڈنگ اور تربیت ملتی ہے اور یہ گروہ جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ گمراہ کن قرار دے دیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 35 مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج کا اصرار سیاسی ضد ہے، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔