جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات کے باوجود اسلام آباد مذاکرات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے؛ تمام شرکاء نے شرکت کی یقین دہانی کروا دی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے حتمی اقدامات مکمل کر لیے ہیں
ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے
افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں
برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کو بند کرنے یا محدود کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہ جنگ رک نہیں رہی بلکہ وقفے وقفے سے پھیل رہی ہے تاہم اس رکتی چلتی جنگ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اگر آج مشرقِ وسطیٰ مکمل جنگ میں نہیں بدلا، تو اس میں سب سے بڑا کردار سعودی عرب کے اس فیصلے کا ہے کہ اس نے گولی کے جواب میں گولی نہیں چلائی۔