کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔
جنگ کے آغاز سے کسی کو امید نہیں تھی کہ جنگ اتنی شدت اختیار کر لے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں جانب سے ہونے والے نقصانات، تباہی و شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں تو آ رہی ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر اور ملٹری اثاثوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جنگ کے شعلے اب تک کے سب سے حساس نوعیت کے اثاثوں تک پہنچ گئے ہیں
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔
حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔
نوجوانی میں وہ ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر کام کرتے رہے۔
موروثی ملامتیوں کی یہ بات اگر درست ہوتی کہ پاکستان کی فارن پالیسی غلامانہ ہے اور وہ امریکی دباؤ میں فیصلے کرتا ہے تو پاکستان آج ایٹمی طاقت نہ ہوتا ۔ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک نہ کر رہا ہوتا۔ پاکستان اس خطے میں ہندتوا کے فاشزم کے سامنے نہ کھڑا ہوتا۔
پاکستانی سکیورٹی اور سفارتی حلقے طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف صرف پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار اور دیگر عالمی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی بارہا یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوسی خطوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقائی قوتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔