"> تازہ ترین Archives - Page 49 of 56 - HTN Urdu

Category: تازہ ترین

پشاور میں نئی انتظامیہ کے تحت تجاوزات کے خلاف چھٹے روز بھی بلاامتیاز آپریشن جاری، 400 سے زائد غیر قانونی دکانیں اور مارکیٹیں مسمار کر دی گئیں۔

پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرنے اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

نائیجیریا کی ریاست ترابا کے بناری گاؤں پر مسلح حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔ حملہ آوروں نے فائرنگ کے ساتھ دکانوں سے خوراک بھی لوٹ لی۔

کوٹھیان کے قریب غیر ذمہ دارانہ فائرنگ سے نوجوان زخمی ہو گیا، جس کا ملبہ ایکشن کمیٹی نے سیکیورٹی اداروں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی

فرانس میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف 4 لاکھ 10 ہزار افراد کے مظاہرے، پیرس اور مارسیے میں پولیس سے جھڑپیں اور لوٹ مار کے واقعات۔

بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم یہ فی الحال ایک امکان اور رپورٹ کا دعویٰ ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت کے ذریعے عالمی کرکٹ سے وابستگی برقرار رکھے گا، مگر ایسے کسی میچ کا حصہ نہیں بنے گا جہاں قومی وقار، مساوات اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو مجروح کیا جائے۔

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے 12 بیک وقت حملے ناکام بنائے، بھارتی میڈیا کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟

اس کتاب میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کو جائز قرار دیا گیا؛ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی گئی۔ ضربِ عضب اور پاکستانی فوج کی سٹرائیکس کو سامراجی جارحیت کہا گیا، جبکہ پاکستانی فوج پر الزامات عائد کیے گئے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور درست کارروائیوں کے ذریعے خوارج دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ شہری جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ تِیراہ میں ہونے والی کارروائیاں قانونی، محدود اور مخصوص اہداف کے خلاف ہیں۔

قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔

اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔

’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد، اسلام آباد نے خود کو ایک ذمہ دار ’مڈل پاور‘ کے طور پر منوایا ہے. ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع جانتا ہے بلکہ خطے میں "نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر" بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھی اسٹریٹجک توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔