پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرنے اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم یہ فی الحال ایک امکان اور رپورٹ کا دعویٰ ہے۔
اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی
دوسرا گروہ کابل میں موجود طاقتور طالبان وزرا پر مشتمل ہے، جو خود کو زیادہ عملیت پسند قرار دیتا ہے۔ اس گروہ میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔
ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔
آئی او ایم کے مطابق واپس آنے والے افغانوں میں زیادہ تر کے پاس دستاویزات نہیں اور صرف 11% ملازمت یافتہ ہیں، امدادی کوششیں محدود وسائل کی وجہ سے ناکام ہیں
انٹر نیشنل لا کو پامال کرنے کی رسم بھی ٹرمپ نے نہیں ڈالی ۔ یہ پامالی اقوام متحدہ کا اپنا ورثہ ہے۔ چارٹر تو یہی کہتا ہے کہ کسی ملک کی سلامتی کو پامال نہیں کیا جا سکتا کہ اقوام متحدہ نے اپنے اس اصول کو روندتے ہوئے فلسطین کی سلامتی کو روند ڈالا اور اس کی ناجائز تقسیم کر کے وہاں اسرائیل نام کی ریاست قائم کروا دی۔ پھر اسرائیل کو اپنا رکن بنا لیا اور فلسطین کو آج تک رکنیت نہیں ملی۔