Category: مشرق وسطیٰ

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا تنازع افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہے۔

ازبک صحافیوں نے پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے اہم تجارتی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات، فضائی روابط اور معاشی تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔

امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں شدید تعطل؛ صدر ٹرمپ کے 'معاہدہ قریب ہے' کے دعوؤں کو تہران نے مسترد کر دیا، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر فریقین کے مؤقف میں تضاد برقرار۔

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، ترکیہ اور قطر کی قیادت کے درمیان اہم سہ فریقی ملاقات؛ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور۔

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

دورے کے دوران فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے امریکا ایران مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران اور پاکستان کا عزم مشترک اور مضبوط ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان 34 سالہ تعطل توڑ کر براہِ راست مذاکرات پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد کو میزبان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان آمد کی اطلاعات نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں