مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟
اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات سے وابستہ تجزیہ نگار امجد طہٰ کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، جو بین الاقوامی فورمز پر صیہونی ریاست کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ نیتن یاہو اور اعلیٰ اسرائیلی حکام کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے خلیج میں عرب مفادات کا سودا کر رہے ہیں اور پاکستان و ترکی کی مخلصانہ ثالثی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں
اگر ایران میں نظام کی تبدیلی مقصود ہے تو 9 کروڑ آبادی والے ملک میں اس کے بعد کون حکومت کرے گا، اور کیا عراق جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہوگی جہاں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹنے کے بعد طویل عدم استحکام جنم لیتا ہے۔
شہباز گل کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات سے انکار کیا کیونکہ یہ ایک مبینہ “جال” تھا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ ایک معروف دانشور ولی نصر سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تزویراتی تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ 'آہنی برادرانہ' بنیادوں پر استوار ہیں۔ 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت اور 17 لاکھ پاکستانیوں کی موجودگی ان گہرے تزویراتی و معاشی رشتوں کی عکاس ہے جو خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہیں
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان مضبوط اشتراکِ عمل پر مطالبہ کیا ہے
پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے اسرائیلی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نسل پرستانہ اقدام خطے میں تشدد کی نئی لہر اور عدم استحکام کا باعث بنے گا
اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے لازمی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک منظم ریاستی جبر اور غیر انسانی اقدام قرار دے رہی ہیں
اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کیلئے نہایت اہم راستہ ہے۔