یورو میڈ مانیٹر اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اسرائیلی حراستی مراکز کے اندر فلسطینی قیدیوں پر سیکیورٹی کتوں کے ذریعے جنسی زیادتی اور منظم تشدد کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو سیاسی جلسوں میں جگت بازی کا نشانہ بنانا اور مولانا فضل الرحمن کی طرف سے عارضی کرفیو کا تمسخر اڑانا سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی توہین ہے، جس سے ملک میں بداعتمادی پھیلتی ہے۔
اجلاس میں قطر کی نمائندگی وزارتِ خارجہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر سے وابستہ فرسٹ سیکرٹری خالد عبدالعزیز الخلیفی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایک نہایت اہم مرحلے پر منعقد ہو رہا ہے، جس میں افغانستان کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔
لاس اینجلس میں منعقدہ ریلیف کنسرٹ کے دوران فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل بیلا حدید نے غزہ اور سوڈان میں انسانی بحران کا شکار بچوں کے لیے فوری عالمی توجہ کی ضرورت پر زور دیا
واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔
مبصرین نے نشاندہی کی کہ مضمون کے پلیٹ فارم اور مصنف کا پس منظر بھی اس کے تجزیے پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ مڈل ایسٹ مانیٹر کو قطر سے منسلک میڈیا ایکوسسٹم کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جہاں خلیجی رقابتوں کو اکثر نظریاتی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تناظر دلیل کو رد نہیں کرتا، مگر اس کے انتخابی اخلاقی فریم کی وضاحت ضرور کرتا ہے۔
ادھر زمینی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز عدن کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، جبکہ سعودی عرب نے الزبیدی کے آبائی صوبے الضالع پر کم از کم 15 فضائی حملے کیے ہیں۔ ایس ٹی سی کے مطابق ان حملوں میں دو شہری جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ سعودی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’’پیشگی دفاعی کارروائیاں‘‘ تھیں جن کا مقصد کشیدگی بڑھانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔
بیان کے اختتام پر قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، تاکہ مکالمے اور سیاسی ذرائع کے ذریعے یمن اور پورے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
یمن کے مشرقی علاقے، خاص طور پر حضرموت، دوبارہ کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں جہاں سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کے درمیان تصادم جاری ہے
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یمن سے اپنے فوجی دستوں کی واپسی مکمل کر لی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حوالے سے اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یمن سے اماراتی فوجی دستوں کی واپسی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔