Category: تجزیات

امریکا نے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری اور اہم مالیاتی عہدیدار عبید اللہ سے متعلق معلومات پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان کر دیا۔

باجوڑ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جھانگیر آباد سے شرپسند عناصر کے چھپائے گئے 14 مارٹر گولے برآمد کرلیے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟

اس کتاب میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کو جائز قرار دیا گیا؛ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی گئی۔ ضربِ عضب اور پاکستانی فوج کی سٹرائیکس کو سامراجی جارحیت کہا گیا، جبکہ پاکستانی فوج پر الزامات عائد کیے گئے۔

اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔

’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد، اسلام آباد نے خود کو ایک ذمہ دار ’مڈل پاور‘ کے طور پر منوایا ہے. ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع جانتا ہے بلکہ خطے میں "نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر" بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھی اسٹریٹجک توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔

خطبہ حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ علما کے مطابق اگر آج اسلام کے نام پر ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو انسانوں کے درمیان امتیاز کو فروغ دیں تو یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہے بلکہ رسول اکرم ﷺ کے اس بنیادی پیغام کی بھی نفی ہے۔

سوال کے راستے میں کلٹ آ جائے تو مسافت طویل تو ہو سکتی ہے ، سفر ختم نہیں ہوتا۔ سوال منزل پر پہنچا اور اس نے ذہنوں پر دستک دی کہ اگر امریکہ ہی انہیں نکالنے کی سازش میں ملوث تھا تو اوورسیز انقلابی جن کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے ، ایک آدھ مظاہرہ واشنگٹن یا نیو یارک میں امریکہ کے خلاف کیوں نہیں کر لیتے؟ ہیجان پیدا اکرنے کے لیے کیا پاکستان ہی آسان شکار نظر آتا ہے۔

شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قائدین پاکستان نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور الگ وطن بنا دیا ورنہ پاکستان کے پچیس کروڑ مسلمان بھی ہندوستان میں بری طرح پس رہے ہوتے۔ سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی جیسے لیڈروں نے نظریہ پاکستان اور قائداعظم کے ویژن کو عملاً درست ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان میں اگر کسی کو معمولی سا شک بھی تھا تو پچھلے چند برسوں میں وہ دور ہوگیا۔

عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں نعروں، بیانیوں اور ٹی وی مباحث کی گردان نہیں چاہیے۔ انہیں محفوظ سڑکیں، مضبوط عمارتیں، فعال فائر بریگیڈ، احساس اور جواب دہی پر مبنی نظام چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ گھر سے نکلنے والا بچہ شام کو زندہ واپس آئے گا، اور گھر میں رہے گا تو چھت نہیں گرے گی۔

آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔