ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔
مہمند کا گورنمنٹ ڈگری کالج لکڑو 17 سال بعد بھی مکمل نہ ہو سکا۔ پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور صوبے میں گورننس پر سوالات اٹھنے لگے۔
جعلی ویزوں، انسانی اسمگلنگ اور بے روزگاری کے مسائل پاکستانی نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایجنٹ مافیا کے خاتمے اور محفوظ قانونی ہجرت کے لیے مؤثر اقدامات کیوں ضروری ہیں؟
اکتوبر 2005 کی وہ صبح 21 برس بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔ مظفرآباد، بالاکوٹ اور باغ کی گلیوں میں آج بھی کوئی ماں کسی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس دکھ سے کیا سیکھا؟