ٹرائیکا کے درمیان جاری جنگ کا جائزہ لینے سے حیران کن اسٹریٹجک نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکہ کی سپرمیسی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے اور اسرائیل کا ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے۔ ایران کو تنہا سمجھنے کی ٹیکنیکل غلطی امریکہ کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنی، جبکہ پسِ پردہ حلیفوں نے جدید ٹیکنالوجی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔
جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔
امریکہ نے بحری ناکہ بندی سے ایران کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں مذاکرات کی ناکامی پر محدود حملوں کا آپشن بھی موجود ہے۔ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا امریکی خواہش پر معاہدہ یا پھر "مارو اور مر جاؤ" کی پالیسی۔
پہلگام کے ایک سال بعد کا پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، بااعتماد اور عالمی سطح پر معتبر ہے۔ بھارت نے جس گڑھے کو پاکستان کے لیے کھودا تھا، وہ آج خود اس کی تزویراتی تنہائی کا سبب بن چکا ہے۔ یہ "پاور شفٹ" عارضی نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں پاکستان خطے میں طاقت کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔
مودی آخر کب تک پاکستان فوبیا کی بنیاد پر عوام کا سیاسی استحصال کرتا رہے گا ؟۔ پرتشدد سیاسی بیانیہ معاشروں میں مختلف طبقوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دیتا ہے ۔ جو عدالتی جانبداری ، سیاسی ڈکٹیٹرشپ اور بیروزگاری کا سبب بنتا ہے ۔ لہذا مودی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ضد، انا اور تعصب کے پرفریب جال سے نکل کر پاکستان کےساتھ "معاہدہ برائے بقائے امن " کرے۔
قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی ہے ، ہم جیسوں کوبھی یقین تھا ، چھاؤں آئے گی۔ ہم نہیں دیکھیں گے تو ہماری آئندہ نسل دیکھے گی۔ مگر ہم نے کب یہ سوچا تھا کہ وقت کا موسم یوں بدل جائے گا۔ اچانک ہی، دیکھتے ہی دیکھتے، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔
بدخشاں کے ضلع جرم میں طالبان انٹیلی جنس کی کاروائی میں 13 افراد کو داعش خراسان سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ذرائع اندرونی اختلافات اور وسائل کے تنازع کو اصل وجہ قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ وہ نہیں جو دونوں طرف کے بیانات میں بتائی گئی۔ وینس نے کہا ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ نہیں دیتا، یہ سچ ہے۔ ایران نے کہا امریکہ ضرورت سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے ، یہ بھی سچ ہے۔ مگر اصل بات دونوں کے پیچھے چھپی ہے
واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔