Category: تجزیات

ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

زیبک، بدخشاں میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کی جھڑپیں، 10 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا دعویٰ۔

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دے دی۔

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔

موروثی ملامتیوں کی یہ بات اگر درست ہوتی کہ پاکستان کی فارن پالیسی غلامانہ ہے اور وہ امریکی دباؤ میں فیصلے کرتا ہے تو پاکستان آج ایٹمی طاقت نہ ہوتا ۔ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک نہ کر رہا ہوتا۔ پاکستان اس خطے میں ہندتوا کے فاشزم کے سامنے نہ کھڑا ہوتا۔

ٹرمپ کی پالیسیوں نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے وہیں عالمی سیاست میں نئے بلاکس بننے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

پاکستانی خواتین کسی میدان میں پیچھے نہیں ہیں خواتین کی اہمیت کے حوالے سے اسلام میں اس کی مثال ایسی ملتی ہے کہ رسول ۖ نے پہلا مشورہ حضرت خدیجہ الکبریٰ سے کیا۔ رسول ۖ کا یہ عمل خواتین کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خواتین کل بھی اول تھیں آج بھی اول ہیں اور اول ہی رہیں گی۔

ہم اکثر "عالمی معیار" کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی "مقامی اقدار" کے ریشم میں پرو دیں۔

جنگ ابھی جاری ہے اور اس کے نتائج مکمل طور پر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس جنگ کے بطن سے ایسی تبدیلیاں جنم لے سکتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کی سیاست اور معیشت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیں۔

جب رسول اکرم ﷺ اپنے تین سو تیرہ صحابہ کے ساتھ اس مقام پر پہنچے تو یہ محض ایک فوجی مقابلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جس میں ایک طرف ایمان سے سرشار مگر وسائل کے لحاظ سے کمزور مسلمان تھے اور دوسری طرف قریشِ مکہ کا طاقتور لشکر تھا جس کی تعداد تقریباً ایک ہزار کے قریب تھی۔ مگر اس ایک روزہ معرکے نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کیلئے بدل دیا اور ایمان اور نظریے کی طاقت اسلحے و افرادی قوت سے کہیں معتبر ٹھہری۔

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔