پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مثبت ماحول کا قائم رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی عمل ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آئندہ مراحل میں مزید پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسا موقع ملا جس میں جنگ کے بادلوں کو امن میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، اور عالمی سطح پر بھی اس کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔
پاکستان نے بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فریقین جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات؛ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا
خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔
پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عملے کو بحفاظت منتقل کیا بلکہ جہاز پر موجود ماہر ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کی اور آگ بجھانے میں بھی مدد دی۔