ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔
گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔
ٹی ٹی پی کے سربراہ نے حالیہ آڈیو پیغام میں مسلح کارروائیاں روکنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اپنی جنگ کا تمام تر ذمہ دار مذہبی طبقے کو قرار دے کر انسدادِ شدت پسندی کے حامی علماء کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت کی، تاہم پاکستانی عوام نے ٹی ٹی پی کے حملوں پر کابل کی خاموشی کو 'دوہرا معیار' قرار دیا ہے۔
افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع ارگو میں پوست کی کاشت کے تنازع پر احتجاج کرنے والے شہریوں پر طالبان فورسز نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
طالبان حکومت نے 119 دفعات پر مشتمل نیا عدالتی فوجداری کوڈ'نافذ کر دیا ہے، جس میں سماجی طبقے کی بنیاد پر سزاؤں کا تعین اور مختلف جرائم کے لیے شرعی قوانین شامل ہیں۔
افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض 'انفرادی فعل' نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
کابل میں شہری مقامات کو عسکری ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد نے طالبان حکام کی جانب سے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور تنصیبات کی محفوظ حیثیت کے خاتمے سے متعلق سنگین قانونی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا
پاکستان کے مسلسل اور کامیاب انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز نے اس تنظیم کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے۔ اپنی اسی کمزور اور شکست خوردہ پوزیشن کی وجہ سے آئی ایس کے پی اب ٹارگٹ کلنگ اور ہائی پروفائل قتل کی وارداتوں کا سہارا لے رہی ہے تاکہ اپنی موجودگی کا احساس دلا سکے اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر سکے۔
طالبان رہنما قاری سعید خوستی کے بیان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور طالبان کے دوہرے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں ذمہ داری کے بجائے الزامات کا سہارا لیا گیا۔
طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔