Category: جنوبی ایشیا

ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔

ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

پاکستان اور افغان طالبان کے وفود چین روانہ ہو گئے ہیں جہاں بیجنگ کی ثالثی میں جنگ بندی، سرحدی تنازعات اور سکیورٹی معاملات پر اہم مذاکرات ہوں گے

جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔

طورخم بارڈر کو جلد کھولنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف تجارت بلکہ افغان شہریوں اور وطن واپسی کے منتظر افراد کی آمدورفت بھی بحال ہو سکے گی۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث افغانستان جیسے کمزور انفراسٹرکچر رکھنے والے ممالک میں قدرتی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کی کارروائیاں مخصوص معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور فائرنگ پوزیشنز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو

اس ملاقات کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ علاقے میں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے، جسے پاکستان کے کنٹرول میں شامل کیے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران جنرل عاصم منیر کو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر اور متوازن قائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران امریکہ تناؤ، اور جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔

افغانستان میں واقعی شریعت نافذ ہے؟ تحقیق نے طالبان کے نظام کو 'مطلق العنان بادشاہت' قرار دے دیا ہے کس طرح قندھار سے جاری ہونے والے 'فرامین' نے کابل کی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور بیعت کا تصور جبر میں بدل چکا ہے