Category: عالمی خبریں

نریندر مودی کے دورۂ یورپ میں نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن میں اقلیتوں اور انسانی حقوق سے متعلق سخت سوالات کے باعث شدید سفارتی سبکی دیکھنے میں آئی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کے دورے میں آپریشنل تیاریوں کو مزید بہتر بنانے اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی پر زور دیا۔

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔

وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیے کے دورے پر ہیں۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو فون کر کے 'اسلام آباد مذاکرات' اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں 'پاکستان کانفرنس 2026' کا انعقاد؛ عالمی ماہرین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، معاشی اصلاحات اور مستحکم خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار

تجزیہ کاروں کے مطابق جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے کسی ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جہاں پاکستان کا کردار ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا بیان فیصلہ کن ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف تھا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایران نے جوہری معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی، جس کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔

ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میزبانی اور کردار کو سراہا، اور کہا کہ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے۔

مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔