Category: افغانستان

اسکاٹ کیلی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد بی ایل اے پر عالمی توجہ بڑھ رہی ہے، تاہم اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش اور بہتر گورننس پر مبنی جامع پالیسی بنانا ہوگی۔

بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل راجیش پوار کی وائرل ویڈیو نے پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے بھارتی، اسرائیلی اور افغان گٹھ جوڑ کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم عادل راجہ کی جانب سے اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دینے اور افواجِ پاکستان کے خلاف سنگین الزامات عائد کرنے کے اعلان کے بعد ملکی دفاعی و سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔

بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث؛ مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا

پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے

ایک طرف افغان وزیر دفاع ملا یعقوب فرمائشی انٹرویو میں پاکستان کے خلاف سخت بیانات، جھوٹے دعوؤں، بے سروپا کہانیوں اور دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں تو دوسری طرف وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی دنیا کے مختلف ممالک سے رابطے کرکے مذاکرات اور سفارتی حمایت کے لیے منت ترلا پروگرام شروع کیے ہوئے ہی

امریکی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا

ماہرین نے عدالتی فیصلے کو انسانی حقوق اور خاندانی قوانین کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے

سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

بدخشاں سے بھاری اسلحہ اور فوجی سامان پاکستان کی سرحد کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل طالبان جنوبی افغانستان سے بھی اپنی فورسز اور جنگی سامان پاکستان سے ملنے والی سرحدوں کی طرف منتقل کر چکے ہیں۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تقریباً 100 مسلح افراد پر مشتمل ایک گروپ کان مالکان کو بھتہ دینے پر مجبور کر رہا ہے جبکہ انکار کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی سکیورٹی اور سفارتی حلقے طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف صرف پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار اور دیگر عالمی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی بارہا یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔