معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی صوبہ کنڑ میں طالبان کے ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں کم از کم تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان نے حال ہی میں ہلمند کے گورنر امان الدین منصور کو بدخشاں میں تعینات کیا ہے، جہاں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس سمجھی جاتی ہے۔
کنڑ واقعہ دہشت گرد گروہوں کی نئی صف بندی اور سرحدی نقل و حرکت کے بعد پیش آیا۔ ماہرین اسے عسکریت پسندوں کی جانب سے شہری آبادی کو تزویراتی ڈھال بنانے کا تسلسل قرار دے رہے ہیں
کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کابل کے سفارتی انکلیو کی کثیر المنزلہ عمارت میں منتقل۔ انسانی ڈھال کے استعمال اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی پر سکیورٹی حکام کا اظہارِ تشویش
قندوز میں 'افغانستان آزادی محاذ' کے جنگجوؤں نے طالبان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ قندوز۔ خان آباد شاہراہ پر پانچویں سکیورٹی زون میں کیا گیا
سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کے باعث طالبان نے داعش، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے وابستہ عناصر کو کنڑ، نورستان اور ننگرہار جیسے علاقوں سے منتقل کر کے اندرونی صوبوں، خصوصاً فاریاب، میں منتقل کیا ہے۔