روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 34 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر و استبداد کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک سینکڑوں میڈیا ورکرز کو "پروپیگنڈا"، "غیر ملکی روابط" اور "اخلاقی کرپشن" جیسے مبہم الزامات کے تحت قید کیا جا چکا ہے
طورخم سے پشاور تک ٹرکوں کی قطاریں دراصل واپسی کے عمل کی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہر جانے والے فرد کی بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں کئی گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، طالبان نے سینکڑوں اہلکار روانہ کر کے گرفتاریاں شروع کر دیں اور مقامی مذہبی رہنما مولوی داد خدا کو حراست میں لے لیا۔
قطر نے امریکہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ کیمپ میں موجود افراد کی قانونی حیثیت کا جلد فیصلہ کیا جائے اور مستقبل میں مزید کسی افغان مہاجر کو قطر نہ بھیجا جائے۔
بلخ کے سابق پولیس کمانڈر ایشان خالد کی ہمشیرہ نے اختر لوچک نامی شخص پر گھر پر قبضے اور طالبان رکن سے زبردستی شادی پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ہے؛ متاثرہ خاندان دربدر ہونے پر مجبور۔
یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جاری ٹارگٹڈ تشدد کے ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان بھی اسماعیلی فرقے کے کم از کم تین افراد کو قتل کیا گیا، مگر اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
ہزارہ برادری کو ان کے عقیدے کی وجہ سے منظم طریقے سے نشانہ بنانا نسلی کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ عالمی برادری کی اس معاملے پر مسلسل خاموشی ان بے بس بچوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو رہی ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض 'ڈیمیج کنٹرول' کی کوشش ہیں۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا طرزِ حکمرانی نہ بدلا اور ملک کو ترقی پسند بنیادوں پر استوار نہ کیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔