روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
پاکستان سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے دوران طورخم سرحد سے مزید 705 افغان باشندے ڈی پورٹ کر دیے گئے، جبکہ آج بھی سینکڑوں افراد کی واپسی کا عمل جاری ہے
یہ تقرریاں طالبان کی اندرونی انتظامی حکمت عملی اور سکیورٹی معاملات کو مؤثر بنانے کے سلسلے کا حصہ ہیں، تاہم ان تبدیلیوں کی وجوہات کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی صوبہ کنڑ میں طالبان کے ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں کم از کم تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان نے حال ہی میں ہلمند کے گورنر امان الدین منصور کو بدخشاں میں تعینات کیا ہے، جہاں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس سمجھی جاتی ہے۔
کنڑ واقعہ دہشت گرد گروہوں کی نئی صف بندی اور سرحدی نقل و حرکت کے بعد پیش آیا۔ ماہرین اسے عسکریت پسندوں کی جانب سے شہری آبادی کو تزویراتی ڈھال بنانے کا تسلسل قرار دے رہے ہیں
کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کابل کے سفارتی انکلیو کی کثیر المنزلہ عمارت میں منتقل۔ انسانی ڈھال کے استعمال اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی پر سکیورٹی حکام کا اظہارِ تشویش