Category: سفارتکاری

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

معاشی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں، جہاں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں، جو وہاں کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کام کر رہے ہیں۔

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو بھارت کے لیے بڑی سبکی قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کی کامیابی نے نئی دہلی کو عالمی منظرنامے پر تنہا کر دیا ہے

خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جسے خطے میں استحکام کیلئے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بعض عرب صحافیوں کا مؤقف ہے کہ اتحادی ملک ثالث نہیں بن سکتا، اس لیے پاکستان کو غیر جانبداری کے بجائے براہِ راست جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔ تاہم تجزیہ کار اس سوچ کو پیچیدہ صورتحال کو خطرناک حد تک سادہ بنانے اور سفارتی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہیں

مشرق وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھنا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور موجودہ بحران کا حل صرف دانشمندانہ فیصلوں اور عالمی یکجہتی میں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے وفود میں سکیورٹی، دفاع اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام شامل ہوں گے، جو سرحدی صورتحال، دہشتگردی اور باہمی تعلقات کے امور پر بات چیت کریں گے۔

دونوں ممالک نے سب سے پہلے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔

ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے

اس ملاقات کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور پاکستان-چین قریبی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے