Category: سفارتکاری

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سعودی اتحاد کے مطابق مکہ ریجن میں ایک ڈرون کی نشاندہی کے بعد اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

حکومتِ پاکستان کی سہولت اجازت سے 724 ٹرکوں پر مشتمل انسانی امداد طورخم بارڈر کے راستے افغانستان پہنچ گئی۔ اقوامِ متحدہ نے امدادی راستہ کھلا رکھنے پر پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

چینی سفیر جیانگ زی ڈونگ کی وزارتِ خارجہ میں اسحاق ڈار سے ملاقات، براڈ پیک برفانی تودے کے حادثے پر تعزیت اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر اہم سفارتی موقع ہے۔

پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

ایرانی صدر پزشکیان کی محسن نقوی سے ملاقات، پاکستان ایران تعلقات کو علاقائی سکیورٹی کے لیے اہم قرار دیدیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی کے خلاف نہیں۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے اور مستقبل میں مصر بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم اور مملکتِ بحرین نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مسلم دنیا کے امن و استحکام کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں عمرے کی سعادت حاصل کی اور خانہ کعبہ کے اندر حاضری دی۔