روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
بدخشاں اور نیمروز میں تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت، عالمِ دین کا شدید مذہبی فتویٰ اور افغان بچوں کا عسکری استعمال؛ طالبان حکومت شدید داخلی اور بقائی بحران کی زد میں۔
بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
بھارت میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلٹ گنز کا استعمال اور ریاستی تشدد امتحانی نظام کی تباہی اور جمہوریت کے نام پر جبر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایران امریکہ کشیدگی اور خلیجی بحران کے حل کے لیے پاکستان کا متوازن سفارتی کردار انتہائی اہم ہے۔ عارضی انتظامات کے بجائے مستقل سیاسی حل ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔
بلوچستان میں آپریشن شعبان کے تحت 129 دہشت گردوں کی ہلاکت عسکری کامیابی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے بیرونی فنڈنگ اور معصوم محنت کشوں کو نشانہ بنانے والی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا طے پانا اور 19 جون کو جنیوا میں پاکستانی میزبانی میں دستخطی تقریب کا انعقاد، عالمی سفارت کاری میں اسلام آباد کی بے مثال کامیابی اور خطے میں پائیدار امن کے نئے دور کا آغاز ہے۔
افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور غیر ریاستی عناصر کی موجودگی نے جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک سنگین جیوپولیٹیکل بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کا حل مربوط علاقائی حکمتِ عملی میں پنہاں ہے۔