Category: ایڈیٹر کا انتخاب

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کھٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ناکام بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

آج بھی جب دشمن کے تباہ ہونے والے غرور، رافیل طیاروں کی ناکامی اور پاکستانی شاہینوں کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر ہوتا ہے تو دل خوشی اور فخر سے بھر جاتا ہے۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

سانحہ 9 مئی کی تیسری برسی پر اور معرکہ حق کے پہلے جشن 10 مئی کے موقع پر یاد آتا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ کوئی شخص تمہاری پیٹھ پر سوار نہیں ہوسکتا جب تک وہ جھکی ہوئی نہ ہو۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطہ اس تبدیلی کو برداشت کر پائے گا یا یہ ایک بڑے اور خطرناک مقابلے میں تبدیل ہو جائے گا جہاں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع صرف ان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اتحادیوں، مفادات اور عزائم کے ایک پیچیدہ جال کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

دوسرے دور کے مذاکرات کی توقع 22 اپریل کو تھی، مگر کشیدگی کے باعث تاخیر ہوئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر غیر یقینی نہیں بلکہ امریکی رویے کے تضادات کی وجہ سے ہے۔ اس کے باوجود، رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کا اگلا دور متوقع ہے۔

نیرو پوما نے کہا کہ جے ڈی ونیس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد بھیجا اور ٹرمپ کے پاکستان پر اس اعتماد کی وجہ بھارت کا آپریشن سیندور ہے ۔ اس بہادر خاتون صحافی نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کیخلاف آپریشن سیندور کے نام پر جنگ شروع کی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سیز فائر کروایا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سفارتی رابطے تیز رفتار اور خفیہ انداز میں انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کیے گئے، جہاں ایران کے ساتھ واٹس ایپ اور امریکہ کے ساتھ سگنل کے ذریعے پیغامات اور کالز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار نے وقت کی بچت اور میڈیا کی مداخلت سے بچاؤ کو ممکن بنایا۔

بلوچستان کی زمین کے نیچے موجود معدنیات اپنی جگہ غیر متحرک ہیں، مگر ان کی اصل جغرافیائی سیاسی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ آیا اس خطے کو مستحکم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر بدامنی جاری رہی تو ممکن ہے کہ قلیل مدتی رقابت کی خاطر برداشت کی گئی یہ صورتحال امریکہ کے طویل مدتی مفادات کے دروازے خود بند کر دے۔

سعودی۔پاکستان شراکت داری اس پیش رفت کی بنیاد ہے، جو دہائیوں پر محیط دفاعی، معاشی اور ادارہ جاتی تعاون پر قائم ہے۔ حالیہ بحران میں دونوں ممالک کا تعاون دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔

ایران کے خلیجی ممالک پر تابڑ توڑ حملوں سے یہ قلعی کھل گئی ہے کہ امریکا کسی ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ وہ خلیجی ممالک جنہوں نے اپنے دفاع کی ساری ذمہ داری بھاری ہرجانے پر امریکا کے حوالے کی تھی، اس وقت ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 15 نکات کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔