Category: ایڈیٹر کا انتخاب

شہباز شریف نے عاصم منیر کی امن کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کی قیادت کے اسلام آباد دورے کو خطے کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

بی این ایم اور ڈاکٹر نسیم بلوچ پر دہرے معیار، غیر ملکی ایجنڈے اور پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کے استحصال کے سنگین الزامات سامنے آگئے ہیں۔

کالعدم بی ایل اے کے سرغنہ بشیر زیب کی جانب سے غیر ملکی ایجنڈے پر بلوچ نوجوانوں کے استحصال اور ترقیاتی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے حقائق منظرِ عام پر آگئے۔

اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔

ضلع خیبر کے علاقے آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران اہم کمانڈرز سمیت 5 دہشت گرد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطہ اس تبدیلی کو برداشت کر پائے گا یا یہ ایک بڑے اور خطرناک مقابلے میں تبدیل ہو جائے گا جہاں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع صرف ان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اتحادیوں، مفادات اور عزائم کے ایک پیچیدہ جال کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

دوسرے دور کے مذاکرات کی توقع 22 اپریل کو تھی، مگر کشیدگی کے باعث تاخیر ہوئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر غیر یقینی نہیں بلکہ امریکی رویے کے تضادات کی وجہ سے ہے۔ اس کے باوجود، رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کا اگلا دور متوقع ہے۔

نیرو پوما نے کہا کہ جے ڈی ونیس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد بھیجا اور ٹرمپ کے پاکستان پر اس اعتماد کی وجہ بھارت کا آپریشن سیندور ہے ۔ اس بہادر خاتون صحافی نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کیخلاف آپریشن سیندور کے نام پر جنگ شروع کی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سیز فائر کروایا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سفارتی رابطے تیز رفتار اور خفیہ انداز میں انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کیے گئے، جہاں ایران کے ساتھ واٹس ایپ اور امریکہ کے ساتھ سگنل کے ذریعے پیغامات اور کالز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار نے وقت کی بچت اور میڈیا کی مداخلت سے بچاؤ کو ممکن بنایا۔

بلوچستان کی زمین کے نیچے موجود معدنیات اپنی جگہ غیر متحرک ہیں، مگر ان کی اصل جغرافیائی سیاسی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ آیا اس خطے کو مستحکم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر بدامنی جاری رہی تو ممکن ہے کہ قلیل مدتی رقابت کی خاطر برداشت کی گئی یہ صورتحال امریکہ کے طویل مدتی مفادات کے دروازے خود بند کر دے۔

سعودی۔پاکستان شراکت داری اس پیش رفت کی بنیاد ہے، جو دہائیوں پر محیط دفاعی، معاشی اور ادارہ جاتی تعاون پر قائم ہے۔ حالیہ بحران میں دونوں ممالک کا تعاون دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔

ایران کے خلیجی ممالک پر تابڑ توڑ حملوں سے یہ قلعی کھل گئی ہے کہ امریکا کسی ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ وہ خلیجی ممالک جنہوں نے اپنے دفاع کی ساری ذمہ داری بھاری ہرجانے پر امریکا کے حوالے کی تھی، اس وقت ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 15 نکات کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔

تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچستان کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش، تجارت کے بدلتے ہوئے راستے اور علاقائی سیاست کی نئی ترتیب بلوچستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتی ہے جہاں سے مستقبل کی علاقائی معیشت اور سیاست کے نئے راستے متعین ہوں گے۔

آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔