حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔
انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔
ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام سفارتی رابطے تیز رفتار اور خفیہ انداز میں انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کیے گئے، جہاں ایران کے ساتھ واٹس ایپ اور امریکہ کے ساتھ سگنل کے ذریعے پیغامات اور کالز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار نے وقت کی بچت اور میڈیا کی مداخلت سے بچاؤ کو ممکن بنایا۔
بلوچستان کی زمین کے نیچے موجود معدنیات اپنی جگہ غیر متحرک ہیں، مگر ان کی اصل جغرافیائی سیاسی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ آیا اس خطے کو مستحکم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر بدامنی جاری رہی تو ممکن ہے کہ قلیل مدتی رقابت کی خاطر برداشت کی گئی یہ صورتحال امریکہ کے طویل مدتی مفادات کے دروازے خود بند کر دے۔
سعودی۔پاکستان شراکت داری اس پیش رفت کی بنیاد ہے، جو دہائیوں پر محیط دفاعی، معاشی اور ادارہ جاتی تعاون پر قائم ہے۔ حالیہ بحران میں دونوں ممالک کا تعاون دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔
ایران کے خلیجی ممالک پر تابڑ توڑ حملوں سے یہ قلعی کھل گئی ہے کہ امریکا کسی ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ وہ خلیجی ممالک جنہوں نے اپنے دفاع کی ساری ذمہ داری بھاری ہرجانے پر امریکا کے حوالے کی تھی، اس وقت ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 15 نکات کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔
تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچستان کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش، تجارت کے بدلتے ہوئے راستے اور علاقائی سیاست کی نئی ترتیب بلوچستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتی ہے جہاں سے مستقبل کی علاقائی معیشت اور سیاست کے نئے راستے متعین ہوں گے۔
آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔
پاکستان اپنی لڑائی لڑ رہا ہے، اپنی مغربی سرحد کو محفوظ بنا رہا۔ بفرزون بنا رہا۔ افغان طالبان کو اب بھی اگر سمجھ نہیں آئی تو پھر وہ اپنا نصف ملک تاجک، ازبک، ہزار اتحاد کے ہاتھوں گنوا بیٹھیں گے اور واخان کاریڈور پر بھی پاکستانی کنٹرول ہوسکتا ہے۔
حمارت اسلامی افغانستان کے لئے چیلنج صرف اپنے اسلحے کے ذخائر کی بچت ہی نہیں بلکہ ان کی معیشت کا بھی بڑا انحصار پاکستان پر رہا ہے۔ خوراک اور ادویات سمیت ہر اہم چیز یہ پاکستان سے سمگل کرواتے رہے۔
ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی ہے یہ جنگ در اصل امریکا کیخلاف جنگ ہے۔ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا۔ ٹرمپ امریکا کو بھی نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے وہ حکمران جو ٹرمپ کی زبان سے اپنی تعریفیں سُن کر بہت خوش ہوتے تھے بہت جلد دعائیں مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ اُنکی کبھی تعریف نہ کرے کیونکہ ٹرمپ اب امریکا میں بھی نفرت کی علامت بنتا جا رہا ہے-