رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر مزید حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے عہدیدار الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور طالبان سے روابط اب بھی برقرار ہیں۔ داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان بھی افغانستان سے سرگرم اہم دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا میں بارودی مواد سے بھری گاڑی خودکش حملے سے پہلے ہی تباہ کر دی۔ تین دن کی مسلسل نگرانی کے بعد کی گئی اس کارروائی میں ایک خارجی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔
بھارتی خلائی ادارے اسرو سے 120 سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے ریٹائرمنٹ کے قواعد سخت کر دیے۔ نجی خلائی شعبے کی تیزی سے ترقی اور بہتر معاوضوں کے باعث ماہر سائنسدان سرکاری ادارہ چھوڑنے لگے۔
سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ تشدد کی شیئر کردہ وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دور کی ہے، جسے موجودہ انتظامیہ سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف اپنی ہدفی کارروائیوں پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد کابل انتظامیہ کی ناکام ڈرون اشتعال انگیزی نے طالبان کی بوکھلاہٹ اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بی بی سی پشتو کی کوریج پر طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین نے دہشت گردی کی رپورٹنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے سویلین ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل انتظامیہ سرحد پار دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہی ہے۔
پاکستان نے آزاد کشمیر کے معاملے پر برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ اور دیگر عناصر کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی امور میں غیر ذمہ دارانہ مداخلت قرار دیا ہے۔