کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب اقدامات کے بعد ٹی ٹی پی، افغان اور بھارتی اکاؤنٹس پرانی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ ہے کہ ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے انٹیلی جنس، فوجی تربیت، میزائل اور ڈرونز فراہم کر رہا ہے، جبکہ تہران نے الزامات مسترد کردیے۔
حکام اور ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر طالبان اور عالمی جہادی نیٹ ورکس کے گہرے روابط پر سوالات اُٹھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی برادری طالبان سے دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کے عملی ثبوت کا تقاضا کر رہی ہے۔
ایچ ٹی این نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم کا کسی ممنوعہ یا دہشت گرد تنظیم، بشمول لشکرِ طیبہ، سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ ایک معتدل مذہبی سیاسی جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے کارکن تھے، جو پاکستان کی ایوانِ بالا سینیٹ میں بھی نمائندگی رکھتی ہے۔
ایچ ٹی این نے کاکڑ کے قریبی ذرائع سے رابطہ کیا جنہوں نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا کہ انوارالحق کاکڑ بالکل خیریت سے ہیں اور اس وقت چین میں موجود ہیں، جہاں وہ اپنے مجوزہ سرکاری و نجی ملاقاتوں کے سلسلے میں مصروف ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو دراصل ایک بڑے بیانیے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو دہشتگرد ثابت کیا جا رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی کریک ڈاؤن کو جواز مل سکے۔
یہ تنازعہ نہ صرف روس اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے بلکہ خطے میں میڈیا کی آزادی اور غیر جانب دار رپورٹنگ کے چیلنجز کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔