معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
متحدہ مدارس کونسل نے پاک فوج اور شہداء کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کو ان کا ذاتی سیاسی مؤقف قرار دیتے ہوئے مدارس اور علما کے باضابطہ بیانیے سے الگ کر دیا۔
عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔
شہباز گل کی جانب سے بانئ پی ٹی آئی کی صحت اور بینائی کے حوالے سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے
سوشل میڈیا پر طالبان سے وابستہ اکاؤنٹس کی جانب سے حماس سے منسوب ایک جعلی ویڈیو وائرل کی گئی، جس میں ٹی ٹی پی کے نشانات استعمال کر کے دھوکہ دہی کی کوشش کی گئی
سیکیورٹی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ انٹیلیجنس کا مطلب ہر شہری پر نگرانی مسلط کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کے سدِباب کے لیے اقدامات کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں مسلسل اور مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں، جس کا ثبوت حالیہ مہینوں میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے سینکڑوں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاریاں ہیں۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو “نظر انداز” کیے جانے کا بیانیہ جان بوجھ کر گھڑا گیا ہے تاکہ عوام میں یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے حقائق کے برعکس ہیں اور محض سیاسی مفادات کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے، نہ غزہ میں فوج کی موجودگی کی تصدیق اور نہ ہی افغان سرحد پر جھڑپ کا کوئی ثبوت