پاکستان کی جانب سے کبھی بھی اس قسم کی کوئی ویزا درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔ یہ افواہیں پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس میں افغان طالبان بھارتی ایما پر اس پروپیگندے کو پھیلا رہے ہیں
سفارتی حلقوں کا مؤقف یہ رہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویئے کی ضرورت ہے، جبکہ جارحانہ بیانات سے اجتناب لازمی سمجھا جائے گا۔
متقی نے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو منصوبے ادھورے رہ گئے تھے، انہیں مکمل کیا جائے گا اور جو شروع نہیں ہو سکے، ان پر دوبارہ کام کیا جائے گا۔
طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کیا تھا، جس کے بعد بھارت کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔
بھارتیوں کیلئے ویزوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کا حصہ نہیں ہے، یہ دورہ آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھانے کیلئےہے جو ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔