Category: کشمیر

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

آزاد کشمیر میں بلدیاتی و عمومی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں عوام کی بھرپور اور پُرامن شرکت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے منفی بیانیے کو عملاً مسترد کر دیا۔

احمد رضا قادری نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی آزاد کشمیر کے آئینی نظام کا حصہ ہے، جبکہ جے اے اے سی کی مخالفت حقائق کے منافی ہے۔

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔

مظفرآباد میں بلیک آؤٹ اور سیکیورٹی آپریشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل خبریں مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ملک دشمن عناصر کا گمراہ کن پراپیگنڈا ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور عمر نذیر کی تحریک کے پیچھے بھارتی اسکرپٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ عوامی مطالبات کا سہارا لے کر ملک میں انارکی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ریاست کے سارے بچے ہیں لیکن لاڈلہ آزاد کشمیر ہے، وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ حصہ آزاد کشمیر کو ملتا ہے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے انکشاف کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتخابی حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر اب سخت ریاستی اقدامات ناگزیر دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلقات اعتماد اور باہمی تعاون پر مبنی ہیں۔ مشکل معاشی حالات کے باوجود بجلی، آٹے کی سبسڈیز اور وسائل کا تحفظ جاری ہے۔