Category: خیبر اور بلوچستان

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

یاد رہے کہ چمن اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیاسی قیادت کی توجہ صرف ایک شخصیت تک محدود؛ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں کی ترجیحات پر سوالات، سکیورٹی چیلنجز پسِ پشت چلے گئے

سیاسی مبصرین اور حکومتی نمائندوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیان کو وقت اور حالات کے تناظر میں نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں سے تصادم کے بجائے گورننس پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے

کرک کے علاقے بہادر خیل میں دہشت گردوں کی ایمبولینس پر بزدلانہ فائرنگ؛ ہسپتال منتقل کیے جانے والے ایف سی کے 3 زخمی اہلکار شہید، ریسکیو عملے کے 2 ارکان زخمی

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کوٹ عیسیٰ دربند میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے گنڈاپور گروپ سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گرد ہلاک

انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں نقد انعام کا اعلان کیا۔ سی ٹی ڈی حکام نے واضح کیا کہ صوبے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں بغیر کسی تفریق کے جاری رہیں گی اور ریاستی اداروں کے خلاف عناصر کے لیے صفر برداشت کی پالیسی برقرار رہے گی۔

ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاجی ہنگاموں کی منصوبہ بندی میں عوام کی سہولیات کو نظر انداز کیا گیا اور احتجاج کی شدت نے صوبائی نظام کو معطل کر دیا، جس سے سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی مشکلات کو استعمال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی لحاظ نہیں رکھا جا رہا۔ ترجمان کے مطابق یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

آواران سے تعلق رکھنے والی طالبہ ثانیہ کے والد نے پریس کانفرنس میں بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان لڑکیوں کو جھوٹے نعروں سے ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ “آئی کے رہائی فورس” کا انجام بھی “پی ٹی آئی ٹائیگرز” جیسا ہو سکتا ہے یعنی ایک ایسا منصوبہ جو تنظیمی ڈھانچے، قانونی جواز اور عملی حکمت عملی کے فقدان کے باعث مؤثر کردار ادا نہ کر سکے۔