افغان طالبان کے ترجمان کے بیانات کے تناظر میں پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس پر سنجیدہ سوالات سامنے آئے ہیں، جن میں طالبان کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
میرپورخاص میں مدھو کے مبینہ اغوا کا ڈراپ سین ہو گیا ہے، جہاں حقائق کے مطابق لڑکی نے اپنے ہندو پڑوسی کیلاش سے پسند کی شادی کی ہے اور تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔
میر رضا علی قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ سندھ حکومت نے پولیس افسران کے کردار اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
بھارت اور چین کے درمیان اصل جھگڑا سرحد کی ادھوری حد بندی اور تاریخ کی مختلف تشریحوں کا ہے۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کہتا ہے اور میک موہن لائن کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ بھارت اروناچل کو اپنی ریاست اور اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور اسی لکیر کو اپنی مشرقی سرحد کی بنیاد مانتا ہے۔
امریکی مؤرخ اسٹیفن کوٹکن کا ایران۔ پاکستان جوہری دعویٰ من گھڑت اور تضادات کا شکار ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فعال سفارتی اور معتبر مصالحتی کردار نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی عالمی جنگ سے محفوظ رکھا ہے۔
افغان طالبان کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف 82 عالمی تنظیموں نے جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین سے سفارتی تعلقات قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا اخلاقی زوال بے نقاب کر دیا ہے، جہاں بھارتی فنڈنگ کے عوض معصوم خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مابین واشنگٹن میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تجارت، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22، 22 روپے جبکہ مٹی کے تیل میں 41 روپے 44 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کر دی ہے۔
افغانستان کے صوبہ سرِپل میں چار نہتے نوجوانوں کے دن دہاڑے قتل اور بااثر طالبان رہنماؤں سے وابستہ نیٹ ورکس کو حاصل استثنا نے طالبان حکومت کے قانون و انصاف کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
مئی 1998 کا یومِ تکبیر اور مئی 2025 کا معرکۂ حق (آپریشن بنیان مرصوص) پاکستان کی دفاعی تاریخ کے دو ایسے درخشاں ابواب ہیں جنہوں نے نہ صرف ازلی دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا، بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی محور کے طور پر بھی منوایا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ژوب میں مغربی سرحد پر جوانوں کے ساتھ عید منائی اور عزم ظاہر کیا کہ دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف پوری قوت سے آپریشن جاری رہے گا۔
ننگرہار ایئرپورٹ پر طالبان اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، قومی محاذ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔