راجہ بازار راولپنڈی میں قرض کے تنازع سے شروع ہونے والا جھگڑا دو جانوں کے ضیاع پر ختم ہوا، جبکہ بعد ازاں خواتین کی گرفتاری، احتجاجی دھرنے اور شناختی دستاویزات سے محرومی جیسے مسائل نے ایک بڑے سماجی المیے کو بے نقاب کر دیا۔
جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن پیشیوں کا نظام بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے، جس سے غیر ضروری سفر میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی عملے، بنیادی انفراسٹرکچر اور سکیورٹی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ نظام مؤثر اور پائیدار انداز میں چل سکے۔
مسلمانوں کو نا صرف بچا لیا جائے گا بلکہ وہ دنیا کے فاتح بھی کہلائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ اس وقت فرعون اور اس کے لشکر کے لیے مقام عبرت یہی خطہ تھا ۔ آنے والے وقت میں یہودیوں کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کا بھی یہی خطہ ہو گا ۔اور ہر سو کلمہ توحید کا پرچم لہرا یا جائے گا۔
ہم بھارت کی طرح جنوں میں پاگل نہیں ہے۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں ۔ ہم جنگ میں بھی وحشت کی نذر نہیں ہوتے ، سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے ٹارگٹ اڑاتے ہیں ۔ ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ، ہم نے ان کی اعلی ترین عسکری قیادت کو لاک کیا اور اس کی ویڈیو بھجوا دی تا کہ سند رہے۔ ہمارے ڈرون بھارتی وزیر اعظم کے گھر پر اڑتے رہے ۔
آج اس معرکے کو ایک برس مکمل ہونے کو ہے۔ یہ وقت ہے کہ ٹھنڈے دل سے سوچا جائے کہ پچھلے سال مئی کے ان چار دنوں میں جو بیج بویا گیا، اس سے کس قسم کی فصل اگی؟
پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔
مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔
طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔
موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔