ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔
دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔
موجودہ افغان حکومت کے لیے بھی یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا اقتدار، جمہوریت، مفاہمت اور اجتماعی اتفاقِ رائے سے قائم ہونے والے امن کا نہ نعم البدل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایک مستحکم اور پائیدار افغانستان کے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
مغربی افغانستان میں قندھار گروپ سے تنگ فوجی کمانڈروں سے رابطوں کے لئےحقانی گروپ کے اہم کمانڈروں عبدالعزیز عباسین، ابراہیم حقانی عرف ابراھیم عمری کو لانچ کیاجا چکا ہے، جبکہ انس حقانی کو سفارتی سطح پر رابطے کرنے کا کہدیا گیا ہے ۔ ذرائع تو اس بات کا بھی انکشاف کررہے ہیں کہ سراج حقانی نے 32رکنی شوریٰ میں بھی لابنگ شروع کردی ہے ، اس لابنگ کی ذمہ داری سراج نے خود اٹھائی ہےا ور اس کےساتھ ساتھ جلال الدین حقانی کی اہلیہ کے بھائی اور اہم کمانڈر حاجی مالی خان صدیق ڈپٹی آرمی چیف بھی متحرک ہیں۔
آذربائیجان اپنی معاشی اور سیاسی آزادی کو برقرار رکھے گا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ آذربائیجان کے یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت پر بہت خوش ہوں، یوم فتح پر آذر بائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ تقریب میں تمام دوست ممالک کے نمائندوں اور بالخصوص پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جو آذربائیجان کی خوشی میں شریک ہیں۔
مدرسہ فاطمہ اپنے عہد میں بھی آج کی کسی جدید یونیورسٹی سے کم نہ تھا۔ دنیا بھر سے مذہب اور زبان کی قید سے بالاتر ہو کر لوگ یہاں آتے تھے، اور اس دور میں بھی فلکیات، طب اور دیگر جدید علوم یہاں پڑھائے جاتے تھے۔ برصغیر پر انگریز کے تسلط کے بعد بھی مدارس نے علم و شعور کے چراغ روشن رکھے۔ پاکستان میں بھی مدارس کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔
دنیا کا ہر والد یہ چاہتا ہے کہ اپنے حصے کے غم، تکالیف اورصدمے اپنی اولاد کو ورثے میں نہ دئیے جائیں۔ بعض سانحے مگر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے زخم اور ان سے رستا لہو، ان کی تکلیف اور اس المناک تجربے سے حاصل کردہ سبق ہماری اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہونے چاہئیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنے حال اور مستقبل کو خوشگوار، سنہری اور روشن بنا سکیں۔ سولہ دسمبر اکہتر بھی ایسا ہی ایک سبق ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی اصل طاقت بندوق نہیں، بلکہ آئین، پارلیمان، عوامی مینڈیٹ اور مساوی شہری حقوق ہوتے ہیں۔ جب سیاست کو دبایا جاتا ہے تو تاریخ خود کو دہرانے لگتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر ہم نے ماضی سے سیکھنے کے بجائے اسے فراموش کر دیا تو زخم بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
یہاں سوال انسانی حقوق کے انکار کا نہیں، بلکہ احتساب، تصدیق اور طریقۂ کار کا ہے۔ جب تشدد جیسے سنگین قانونی تصورات کو بغیر عدالتی یا تحقیقی بنیاد کے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف قانونی معنویت کو کمزور کرتا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو کسی ایک جماعت، دور یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ متاع ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) انہی ناموں میں شامل ہیں۔ وہ محض ایک ایٹمی سائنس دان نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ان بنیاد گزاروں میں سے ہیں جن کی دہائیوں پر محیط خاموش، مسلسل اور بے مثال محنت نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
آج کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ پرانی راہیں چھوڑ کر نئی پگڈنڈیوں کی تلاش میں ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی راہیں افغانستان کو حقیقی استحکام اور ترقی کی نئی منزل تک پہنچا سکیں گی؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر سیاسی طالب علم اور تجزیہ کار کے ذہن میں ابھر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی این ایف سی اجلاس میں بھرپور شرکت اس امر کا اشارہ ہے کہ صوبائی حکومت آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اپنی جگہ، مگر ساڑھے چار کروڑ عوام امن، روزگار اور استحکام چاہتے ہیں اور یہی وہ چیلنج ہے جس پر وزیراعلیٰ کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔