Category: تجزیات

قلندیہ میں اونروا مرکز خالی کرانے پر پاکستان کی مذمت، عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ۔

قندھار، پکتیکا اور بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی تین کارروائیوں کے دعوے، این آر ایف نے فیض آباد حملے میں 3 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کا سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری۔

پمز ہسپتال کی نرسری میں اے سی کمپریسر پھٹنے سے 15 نومولود جاں بحق، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم۔

ملک بھر میں 12 ربیع الاول پر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے شہری جوش و خروش سے محبتِ رسول ﷺ میں سرشار ہو کر پروقار تقریبات اور جلوسوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔

ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔

شانگلہ کے ذہین طالبعلم ابو سفیان نے میٹرک میں 865 نمبر لیے مگر غربت نے اسے کوئلہ کان میں مزدوری پر مجبور کیا جہاں وہ حادثے میں شہید ہو گیا۔

ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، مگر جب وزیراعلیٰ کے ماتھے پر پسینہ آیا تو تین سرکاری ملازمین کی نوکری چلی گئی۔ خیبر پختونخوا کی حکمرانی کا وہ تضاد جو ریاستِ مدینہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے چھ برس مکمل ہونے پر طویل بندش، ڈومیسائل قوانین، جانی نقصانات اور متاثرہ سیاسی رہنماؤں کی روداد۔

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

سوات کے کبل حملے میں افغان خودکش بمبار کے استعمال اور اس سانحے پر پی ٹی ایم کے ملک دشمن بیانیے نے دشمن کے ناپاک عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔

برصغیر کے لیے اگست صرف ایک مہینے کا نام نہیں بلکہ یادوں کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ پاکستان اور بھارت کے جشنِ آزادی کے عین درمیان ایک ایسی وادی ہے جس کی تقدیر کا فیصلہ 78 برس بعد بھی باقی ہے۔

خوارج نے ہنگو میں پولیس پر گھات لگا کر وار کیا، کیونکہ میدان میں سامنے آ کر لڑنے کی ہمت ان کے پاس نہیں۔

ہنگو میں پولیس پر حملہ جدید دہشت گردی، سوشل میڈیا بیانیے اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہے۔ امن کی بحالی کے لیے ذمہ دار صحافت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔

بدخشاں کی بدلتی صورتحال طالبان کی کمزور ہوتی گرفت اور اندرونی اختلافات کی عکاس ہے، جو سرحدی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے۔

بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والا دھماکا ایسے کئی دلالوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو دشمن کی لگائی آگ میں اپنے گھر کی لکڑی جھونک رہے ہیں۔