Category: تجزیات

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

نیب اور ایف آئی اے نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

موروثی ملامتیوں کی یہ بات اگر درست ہوتی کہ پاکستان کی فارن پالیسی غلامانہ ہے اور وہ امریکی دباؤ میں فیصلے کرتا ہے تو پاکستان آج ایٹمی طاقت نہ ہوتا ۔ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک نہ کر رہا ہوتا۔ پاکستان اس خطے میں ہندتوا کے فاشزم کے سامنے نہ کھڑا ہوتا۔

ٹرمپ کی پالیسیوں نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے وہیں عالمی سیاست میں نئے بلاکس بننے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

پاکستانی خواتین کسی میدان میں پیچھے نہیں ہیں خواتین کی اہمیت کے حوالے سے اسلام میں اس کی مثال ایسی ملتی ہے کہ رسول ۖ نے پہلا مشورہ حضرت خدیجہ الکبریٰ سے کیا۔ رسول ۖ کا یہ عمل خواتین کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خواتین کل بھی اول تھیں آج بھی اول ہیں اور اول ہی رہیں گی۔

ہم اکثر "عالمی معیار" کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی "مقامی اقدار" کے ریشم میں پرو دیں۔

جنگ ابھی جاری ہے اور اس کے نتائج مکمل طور پر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس جنگ کے بطن سے ایسی تبدیلیاں جنم لے سکتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کی سیاست اور معیشت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیں۔

جب رسول اکرم ﷺ اپنے تین سو تیرہ صحابہ کے ساتھ اس مقام پر پہنچے تو یہ محض ایک فوجی مقابلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جس میں ایک طرف ایمان سے سرشار مگر وسائل کے لحاظ سے کمزور مسلمان تھے اور دوسری طرف قریشِ مکہ کا طاقتور لشکر تھا جس کی تعداد تقریباً ایک ہزار کے قریب تھی۔ مگر اس ایک روزہ معرکے نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کیلئے بدل دیا اور ایمان اور نظریے کی طاقت اسلحے و افرادی قوت سے کہیں معتبر ٹھہری۔

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

جون 2025 میں ایران اسرائیل جھڑپوں میں ایرانی عسکری قیادت اور شہری مراکز شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایران کی کمزور انٹیلی جنس اور فضائی صلاحیت واضح ہو گئی

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔