Category: تجزیات

امریکا نے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری اور اہم مالیاتی عہدیدار عبید اللہ سے متعلق معلومات پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان کر دیا۔

باجوڑ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جھانگیر آباد سے شرپسند عناصر کے چھپائے گئے 14 مارٹر گولے برآمد کرلیے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

پاکستان میں آج بھی یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ 2001 کے بعد "وار آن ٹیرر" میں شمولیت ایک بڑی غلطی تھی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ افغان قیادت نے کبھی سوویت یونین کے ساتھ پاکستان کے خلاف اپنے کردار پر ندامت ظاہر نہیں کی۔

سعودی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک دوسرے سے اپنے وفود کا تعارف کروایا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں برس کی شدید کشیدگی اور اسرائیلی ڈرونز و ٹیکنالوجی کی بھارت کو فراہمی نے یہ واضح کر دیا کہ علاقائی تنازعات میں اب عالمی قوتیں براہِ راست ملوث ہو رہی ہیں۔ ایسے پس منظر میں پاکستان–سعودیہ دفاعی معاہدہ کسی عام ڈیل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک خطی و عالمی اسٹریٹجک ردعمل ہے۔

سروائیکل کینسر خواتین میں ہونے والا تیسرے نمبر کا سب سے عام کینسر ہے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ توانائی قومی سلامتی کا ایک اہم جزو ہے، پاکستان کی موجودہ صورتحال توانائی کے عدم تحفظ کے طور پر سب سے بہتر ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی استعداد پر قابو پانے کے لیے علاقائی رابطوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ویپ کو سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنے والے نوجوان دراصل ایک اور نئی اور زیادہ پیچیدہ لت کے جال میں پھنس رہے ہیں۔

صمود عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی استقامت اور ڈٹ جانا ہے اور اس وقت غزہ کے باسی استقامت کی روشن مثال بنے ہوئے ہیں۔

تصور فرمائیں اسلام سے پہلے ایام جاہلیت کی کون سی ایسی برائی ہے جو ہم مسلمانوں کے معاشروں میں موجود نہیں جو اللہ پر ایمان لاتے اور حضور اکرمۖ کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔ آج کے دن جب ہم عید میلادالنبیۖ کا جشن منا رہے ہیں ہمیں اس بات پرغور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اسلامی تعلیمات کو حرزِ جاں کیوں نہیں بنا سکے؟

آئیں، عطیات کے عالمی دن پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی سخاوت کو انسانیت کی خدمت میں لگائیں گے اور اپنی نسلوں کے لیے ایک بہتر، روشن اور پُرامن کل تعمیر کریں گے۔

آخر میں ایک بات کہ برقعہ چاہے کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، حجاب لینے انداز کس قدر ہی نیا ہوجائے، جب تک ہم اسے اس کی مکمل روح کے ساتھ نہیں اپنائیں گے تو اسکا حقیقی مقصد حاصل نہیں کر پائیں گے۔