Category: تجزیات

پمز ہسپتال میں نومولود کی ہلاکت پر وزیراعظم برہم، سیکرٹری صحت معطل، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل۔

سعودی کاروباری وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، زراعت، توانائی، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال۔

قلندیہ میں اونروا مرکز خالی کرانے پر پاکستان کی مذمت، عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ۔

قندھار، پکتیکا اور بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی تین کارروائیوں کے دعوے، این آر ایف نے فیض آباد حملے میں 3 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کا سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری۔

پمز ہسپتال کی نرسری میں اے سی کمپریسر پھٹنے سے 14 نومولود جاں بحق، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم۔

حلوہ پکاؤ اور کھاؤ۔۔۔ ایک علامتی کہانی کے پردے میں چھپا سوال: کیا خیبرپختونخوا کے عوام نااہل قیادت کے سائے تلے اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے رہیں گے؟

چین کے قرض کی بروقت واپسی پاکستان کی معاشی صلاحیت اور مالی ذمہ داری کا ثبوت ہے، جبکہ معاشی استحکام کی جانب یہ پیش رفت ملک کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔

بھارت میں 25 جولائی کو شروع ہونے والی طلبہ تحریک نئے مرحلے میں داخل، کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی حکومت کو خبردار کیا کہ وعدے پورے نہ کیے گئے تو دوبارہ احتجاج ہوگا۔ دہلی میں مسلم نوجوان جنید کی مشکوک گرفتاری بھی زیرِ بحث۔

سعودی عرب سے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے، قطر کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری اور کویت کے ساتھ پیش رفت سے خلیج میں پاکستان کا روایتی و تاریخی کردار بحال؛ سول و عسکری قیادت کی مربوط حکمتِ عملی کا مظہر۔

نام کے تقدس اور عمل کی حقیقت؛ فاروقِ اعظمؓ کا دورِ حکومت، 1979 کے نعرے، اور طالبان حکومت کے تحت بدخشاں و زیبک میں ابھرتی مسلح مزاحمت کے بعد امارتِ اسلامیہ کے لیے درپیش چیلنجز۔

تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سنایا، ظلم کی سلطنتیں مٹ گئیں، مگر حق کی آواز باقی رہی۔ بھارت میں جو اس وقت ہو رہا ہے، اگرچہ اس کا نتیجہ فی الفور ظلم سے نجات نہ بھی ہو، لیکن یہ اس بات کی بنیاد ہے کہ ظلم مٹنے والا ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کا دائرہ اب صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا، ڈاکٹرز، صحافیوں اور وکلا کے بعد اب ججز بھی براہِ راست حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔

بیس جولائی کے پارلیمنٹ مارچ پر شدید پولیس تشدد کے بعد مساجد کا ہندو مظاہرین کے لیے کھلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی نئی نسل نے ابو الکام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے فلسفے کو اپنا کر ظالمانہ نظام کو رد کر دیا ہے۔

حماس نے خلیل الحیہ کو نیا سربراہ منتخب کیا، وہ شہید یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ہنیہ، سنوار کے بعد اب یہ علم خلیل الحیہ کے ہاتھ میں، شہدا کی جماعت کا سفر جاری۔

نظریاتی خلافت کے تصور سے مودی کی سیاسی قربت تک کا سفر، ایک فکری اور سیاسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔