Category: تجزیات

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سعودی اتحاد کے مطابق مکہ ریجن میں ایک ڈرون کی نشاندہی کے بعد اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، افغان طالبان سے روابط، تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مؤقف اور دینی مدارس کے سیاسی اثر و رسوخ کا جائزہ۔

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جعلی ایڈمیشن لیٹرز کے ذریعے نوجوانوں سے لاکھوں روپے کا فراڈ، روشن مستقبل کے خواب دکھا کر طلبہ کو مالی نقصان پہنچانے کا طریقۂ واردات۔

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے اپنے ہی رہنماؤں کے نجی اسکولوں کے کاروبار کو بچانے کے لیے قانون میں ترمیم کر کے اسکول سیل کرنے کی شق ختم کر دی۔

ڈراما حرمت شرعی پردے کی تضحیک پر شدید تنازع کا شکار ہے۔ فیملی ولاگنگ کے بعد ٹی وی اسکرینز پر اسلامی اقدار کے خلاف بیانیہ اخلاقی بحران کا باعث بن رہا ہے۔

تعلیم کے نام پر جعلی دعوے، غیر منظور شدہ پروگرام اور گمراہ کن وعدے نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ داخلے سے پہلے ادارے اور ڈگری کی تصدیق ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا میں اسکول سانحے نے تعلیمی اداروں کی حفاظت اور حکومتی ترجیحات پر سوالات کھڑے کر دیے۔ شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور صوبے بھر کے اسکولوں کے حفاظتی آڈٹ کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب، خاندان کی قربانیاں اور مبینہ فراڈ کے الزامات؛ لائبہ اعجاز کا معاملہ تعلیمی مشاورتی خدمات کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔