پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔
مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔
طالبان حکومت 2021 سے ایک ذمہ دار ریاستی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی نظریاتی ہٹ دھرمی نے افغان عوام کو شدید معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔
موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔
عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔
اس جنگ میں عالم اسلام کے لیے جو سب سے بڑی خوشخبری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تل ابیب پہلے ہم سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے جانے والے لشکر کے بعد اب یہ فاصلہ چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے ۔ اسرائیل اب عرب دنیا کے خلاف کوئی بھی جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل سو دفعہ سوچے گا ۔
انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کی خصوصی نظرثانی کے تحت ویسٹ بنگال میں تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے، جن میں متاثرہ افراد کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل بتایا جاتا ہے، جس پر مقامی سطح پر تشویش اور احتجاج سامنے آیا ہے۔
اگر علاقائی ممالک بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور تجارت کو سیاسی کشیدگی سے بالاتر رکھیں تو یہ خطہ ایک مضبوط معاشی بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ مواقع ضائع بھی ہو سکتے ہیں۔