ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔
دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔
دہلی کے پاس نہ وہ توازن تھا جو اسے غیر جانبدار بناتا، نہ وہ اعتماد جو اسے قابلِ قبول ٹھہراتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایک ایسے پل کی صورت اختیار کی جو مختلف کناروں کو جوڑ سکتا تھا۔
دہلی کی ہندوتوا عدالت سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا کا احمقانہ فیصلہ پون صدی سے کشمیریوں کے خون سے لکھی جانے والی کتابِ حریت کا تازہ باب ہے، جس میں ایک نہتی، باکردار اور باہمت کشمیری خاتون نے بھارت کے غرور کو چیلنج کیا ہوا ہے
عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں پاکستان کا نام نمایاں ہو رہا ہے اور اس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایٹمی طاقت، اور سفارتی کردار اسے ایک ایسا ملک بنا رہے ہیں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں
ایرانی رجیم کو سمجھنا ہو گا کہ یہ جنگ اعصاب کو کنٹرول کرنے اور صبر کرنے کی جنگ ہے، جس میں ایرانی رجیم دن بدن ٹمپرامنٹ کھوتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک کو نشانے پر رکھ کر فاصلوں کو مزید بڑھانے کے بجائے ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جذباتیت کی رو میں بہہ کر امریکہ و اسرائیل کو موقع مت دیں
نادرا کے کرپٹ عناصر کی وجہ سے کئی پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور انہیں جیل میں رکھا گیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد پاکستان کے حقیقی شہری ہیں۔ بلاک کارڈز کی تصدیق اور مناسب قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہری ذہنی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں
انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔
امریکیوں و اسرائیلیوں نے جنگ کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس پہلو پر شاید اتنا نہیں سوچا ہوگا کہ چائنا اس حد تک گہرائی میں اتر سکتا ہے۔ بہرحال امریکہ و اسرائیل کو اب نئے سرے سے اپنی عسکری منصوبہ بندی کرنا ہوگی
ہابرماس کو ایک ایسے "ناقابلِ تسخیر امید پرست" کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تاریخ کے سیاہ ترین ابواب دیکھنے کے باوجود انسانیت سے بھروسہ نہیں اٹھایا۔ انہیں ایک ایسے معمار کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے جدید یورپ کی فکری بنیادیں رکھیں اور "آئینی حب الوطنی" کا تصور دیا۔
بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران کو بھارت نے دھوکہ دیا۔ حتی کہ بھارت نے ایران پر حملے کی باقاعدہ دھمکی بھی دی ۔ لیکن اس کے باوجود بھارت میں اہل تشیع نے کوئی پرتشدد مظاہرہ نہیں کیا۔
جنگ کے آغاز سے کسی کو امید نہیں تھی کہ جنگ اتنی شدت اختیار کر لے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں جانب سے ہونے والے نقصانات، تباہی و شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں تو آ رہی ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر اور ملٹری اثاثوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جنگ کے شعلے اب تک کے سب سے حساس نوعیت کے اثاثوں تک پہنچ گئے ہیں